افغان صوبہ بدخشاں میں طالبان کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان باہمی اختلافات شدید نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق طالبان کے چیف آف آرمی اسٹاف قاری فصیح الدین فطرت اور ہلمند کے گورنر مولوی امان الدین منصور کے درمیان کشیدگی میں بدخشاں کے انٹیلی جنس و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری کے قتل کے بعد انتہائی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ مقتول ذبیح اللہ امیری، مولوی امان الدین منصور کے بھتیجے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قاری فصیح الدین فطرت نے ذبیح اللہ امیری کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے قتل کے الزام میں گرفتار مرکزی ملزم کو بدخشاں طالبان فورسز کی تحویل سے نکال کر گروپ کی مرکزی انٹیلی جنس کے حوالے کر دیا، جس پر مخالف دھڑے میں شدید اشتعال پھیلا ہے۔
ملزم کی تحویل کی تبدیلی کے بعد مولوی امان الدین منصور سے وابستہ مسلح افراد نے ضلع وردوج میں قاری فصیح الدین کے گھر پر حملہ کر دیا۔ اس خطرناک پیش رفت کے بعد وردوج میں مقامی بااثر افراد نے دونوں دھڑوں میں ممکنہ خونریز تصادم روکنے کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شمال مشرقی افغانستان میں عوامی بے چینی اور طالبان مخالف مسلح گروہوں کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان بیرونی چیلنجز کے ساتھ طالبان کی اندرونی صفوں میں بڑھتا ہوا عدم اعتماد اور کمانڈروں کے باہمی اختلافات نے بدخشان میں طالبان کی سکیورٹی حکمت عملی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
دیکھیے: بدخشاں: طالبان آرمی چیف کی رہائش گاہ پر حملہ، مزاحمت میں اضافہ