جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور عمر نذیر کی تحریک کے پیچھے بھارتی اسکرپٹ کا انکشاف ہوا ہے۔ عوامی مطالبات کا سہارا لے کر ملک میں انارکی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

August 1, 2026

خوارج نے ہنگو میں پولیس پر گھات لگا کر وار کیا، کیونکہ میدان میں سامنے آ کر لڑنے کی ہمت ان کے پاس نہیں۔

August 1, 2026

ضلع ہنگو میں خوارج کے بزدلانہ حملے کے دوران پولیس اور اسپیشل فورسز کے جوانوں نے استقامت کی نئی مثال قائم کر دی۔ خون میں لت پت ہونے کے باوجود اہلکاروں نے محاذ کا دفاع کیا اور دشمن کو پسپا کر دیا۔

August 1, 2026

بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر فرضی نام سے شائع مضمون بے نقاب۔ بھارت بی ایل اے کی پشت پناہی اور پاکستان مخالف پراپیگنڈے کے لیے فرضی شناختیں استعمال کر رہا ہے۔

August 1, 2026

بدخشاں کے ضلع یافتل پایان میں خاتون سے بدسلوکی پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر طالبان کی فائرنگ سے 7 افراد ہلاک و زخمی ہو گئے، علاقے میں شدید کشیدگی۔

August 1, 2026

ہنگو میں پولیس پر حملہ جدید دہشت گردی، سوشل میڈیا بیانیے اور اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہے۔ امن کی بحالی کے لیے ذمہ دار صحافت اور قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔

August 1, 2026

طالبان کی صفوں میں دراڑ: بدخشاں میں اعلیٰ عہدیدار کے قتل کے بعد مسلح تصادم کا خدشہ

بدخشاں میں طالبان کے آرمی چیف قاری فصیح الدین اور گورنر امان الدین منصور کے درمیان اندرونی کشیدگی کے بعد قاری فصیح کے گھر پر حملہ کیا گیا ہے۔
طالبان کی صفوں میں دراڑ

بدخشاں میں طالبان کمانڈروں قاری فصیح الدین اور امان الدین منصور کے درمیان اندرونی اختلافات شدید ہو گئے۔ انٹیلی جنس سربراہ کے قتل کے بعد قاری فصیح کے گھر پر حملہ۔

August 1, 2026

افغان صوبہ بدخشاں میں طالبان کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان باہمی اختلافات شدید نوعیت اختیار کر گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق طالبان کے چیف آف آرمی اسٹاف قاری فصیح الدین فطرت اور ہلمند کے گورنر مولوی امان الدین منصور کے درمیان کشیدگی میں بدخشاں کے انٹیلی جنس و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری کے قتل کے بعد انتہائی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ مقتول ذبیح اللہ امیری، مولوی امان الدین منصور کے بھتیجے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قاری فصیح الدین فطرت نے ذبیح اللہ امیری کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے قتل کے الزام میں گرفتار مرکزی ملزم کو بدخشاں طالبان فورسز کی تحویل سے نکال کر گروپ کی مرکزی انٹیلی جنس کے حوالے کر دیا، جس پر مخالف دھڑے میں شدید اشتعال پھیلا ہے۔

ملزم کی تحویل کی تبدیلی کے بعد مولوی امان الدین منصور سے وابستہ مسلح افراد نے ضلع وردوج میں قاری فصیح الدین کے گھر پر حملہ کر دیا۔ اس خطرناک پیش رفت کے بعد وردوج میں مقامی بااثر افراد نے دونوں دھڑوں میں ممکنہ خونریز تصادم روکنے کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شمال مشرقی افغانستان میں عوامی بے چینی اور طالبان مخالف مسلح گروہوں کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان بیرونی چیلنجز کے ساتھ طالبان کی اندرونی صفوں میں بڑھتا ہوا عدم اعتماد اور کمانڈروں کے باہمی اختلافات نے بدخشان میں طالبان کی سکیورٹی حکمت عملی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

دیکھیے: بدخشاں: طالبان آرمی چیف کی رہائش گاہ پر حملہ، مزاحمت میں اضافہ

متعلقہ مضامین

جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور عمر نذیر کی تحریک کے پیچھے بھارتی اسکرپٹ کا انکشاف ہوا ہے۔ عوامی مطالبات کا سہارا لے کر ملک میں انارکی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

August 1, 2026

خوارج نے ہنگو میں پولیس پر گھات لگا کر وار کیا، کیونکہ میدان میں سامنے آ کر لڑنے کی ہمت ان کے پاس نہیں۔

August 1, 2026

ضلع ہنگو میں خوارج کے بزدلانہ حملے کے دوران پولیس اور اسپیشل فورسز کے جوانوں نے استقامت کی نئی مثال قائم کر دی۔ خون میں لت پت ہونے کے باوجود اہلکاروں نے محاذ کا دفاع کیا اور دشمن کو پسپا کر دیا۔

August 1, 2026

بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر فرضی نام سے شائع مضمون بے نقاب۔ بھارت بی ایل اے کی پشت پناہی اور پاکستان مخالف پراپیگنڈے کے لیے فرضی شناختیں استعمال کر رہا ہے۔

August 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *