پاکستان کے خلاف بھارتی ہائبرڈ وارفیئر کا ایک اور محاذ بے نقاب ہو گیا ہے۔ بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم انڈیا کرونیکل پر فاطمہ بلوچ کے نام سے شائع ہونے والا مضمون پاکستان کو بدنام کرنے اور بلوچستان میں پراکسی دہشت گردی کو فروغ دینے کی ایک وسیع بھارتی گمراہ کن مہم کا حصہ ہے۔
مضمون کی مصنفہ کے طور پر پیش کی جانے والی فاطمہ بلوچ کوئی حقیقی صحافی نہیں بلکہ ایک فرضی شناخت ہے۔ بھارتی ادارے اس فرضی نام کو کالعدم بی ایل اے کی دہشت گردی کو آزادی کی جدوجہد کا رنگ دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جب کسی مصنف کا نہ کوئی چہرہ ہو اور نہ تصدیق شدہ شناخت، تو یہ غیر جانبدار تجزیہ نہیں بلکہ بھیس بدل کر کیا جانے والا پروپیگنڈا ہوتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ 1971 میں بھارت نے مکتی باہنی کو تربیت دے کر پاکستان کو توڑنے کی کوشش کی۔ آج وہی پرانی حکمت عملی بلوچستان میں بی ایل اے کے ذریعے اپنائی جا رہی ہے اور بھارتی میڈیا کھلے عام ایک دہشت گرد تنظیم کی حمایت کر کے اپنی دوہری پالیسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
بی ایل اے بے گناہ شہریوں، چینی کارکنوں اور سکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملوں میں ملوث ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کی رپورٹ میں بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھارتی حمایت حاصل ہے اور وہ افغان سرزمین کا استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور معرکۂ حق 2025 میں بھارت کو واضح اور منہ توڑ جواب دے چکا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ 1971 کا ماڈل اب ہمیشہ کے لیے ناکام ہو چکا ہے۔ ترکیہ، چین، آذربائیجان اور پوری مسلم دنیا پاکستان کے استحکام کے ساتھ کھڑی ہے۔
امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے اہم ممالک بی ایل اے کو پہلے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا کی جعلی بلوچ شناختیں اور فرضی نام حقیقت کو نہیں بدل سکتے، کیونکہ حقیقی بلوچ عوام دہشت گردی کو مسترد کر کے ملکی ترقی کے خواہاں ہیں۔
دیکھیے: لاپتہ افراد کمیشن موجود، پھر واویلا کیوں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر