بھارت کا پاکستان مخالف پراپیگنڈا اور بی ایل اے کی پشت پناہی بے نقاب

بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر فرضی نام سے شائع مضمون بے نقاب۔ بھارت بی ایل اے کی پشت پناہی اور پاکستان مخالف پراپیگنڈے کے لیے فرضی شناختیں استعمال کر رہا ہے۔
بھارت کا پاکستان مخالف پراپیگنڈا اور بی ایل اے کی پشت پناہی بے نقاب

پاکستان کے خلاف بھارتی ہائبرڈ وارفیئر اور پراپیگنڈا بے نقاب۔ بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم انڈیا کرونیکل پر فرضی بلوچ شناخت کے ذریعے بی ایل اے کو فروغ دینے کا انکشاف۔

August 1, 2026

پاکستان کے خلاف بھارتی ہائبرڈ وارفیئر کا ایک اور محاذ بے نقاب ہو گیا ہے۔ بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم انڈیا کرونیکل پر فاطمہ بلوچ کے نام سے شائع ہونے والا مضمون پاکستان کو بدنام کرنے اور بلوچستان میں پراکسی دہشت گردی کو فروغ دینے کی ایک وسیع بھارتی گمراہ کن مہم کا حصہ ہے۔

مضمون کی مصنفہ کے طور پر پیش کی جانے والی فاطمہ بلوچ کوئی حقیقی صحافی نہیں بلکہ ایک فرضی شناخت ہے۔ بھارتی ادارے اس فرضی نام کو کالعدم بی ایل اے کی دہشت گردی کو آزادی کی جدوجہد کا رنگ دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جب کسی مصنف کا نہ کوئی چہرہ ہو اور نہ تصدیق شدہ شناخت، تو یہ غیر جانبدار تجزیہ نہیں بلکہ بھیس بدل کر کیا جانے والا پروپیگنڈا ہوتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ 1971 میں بھارت نے مکتی باہنی کو تربیت دے کر پاکستان کو توڑنے کی کوشش کی۔ آج وہی پرانی حکمت عملی بلوچستان میں بی ایل اے کے ذریعے اپنائی جا رہی ہے اور بھارتی میڈیا کھلے عام ایک دہشت گرد تنظیم کی حمایت کر کے اپنی دوہری پالیسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

بی ایل اے بے گناہ شہریوں، چینی کارکنوں اور سکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملوں میں ملوث ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کی رپورٹ میں بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھارتی حمایت حاصل ہے اور وہ افغان سرزمین کا استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور معرکۂ حق 2025 میں بھارت کو واضح اور منہ توڑ جواب دے چکا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ 1971 کا ماڈل اب ہمیشہ کے لیے ناکام ہو چکا ہے۔ ترکیہ، چین، آذربائیجان اور پوری مسلم دنیا پاکستان کے استحکام کے ساتھ کھڑی ہے۔

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے اہم ممالک بی ایل اے کو پہلے ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا کی جعلی بلوچ شناختیں اور فرضی نام حقیقت کو نہیں بدل سکتے، کیونکہ حقیقی بلوچ عوام دہشت گردی کو مسترد کر کے ملکی ترقی کے خواہاں ہیں۔

دیکھیے: لاپتہ افراد کمیشن موجود، پھر واویلا کیوں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر

متعلقہ مضامین

امریکی مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں برتری حاصل ہوگئی، ٹرمپ نے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

November 4, 2026

کالعدم بی ایل اے نے بشیر زیب بلوچ کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے الگ کر کے تمام اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں۔

November 4, 2026

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *