پاکستان کے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران مکمل ہوگیا، دورے کے دوران انہوں نے ایران کی اعلیٰ ترین قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی امن کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے محسن رضائی، اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف، ایرانی وزیرِ خارجہ اور ایرانی وزیرِ داخلہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ اس اہم دورے میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ تھے۔
ذرائع کے مطابق ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام کے لیے اقدامات، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امکانات اور جاری تنازع کے جلد و پُرامن خاتمے کی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ دونوں جانب سے علاقائی امن اور تنازعات کے مذاکرات کے ذریعے حل کے طریقۂ کار پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایرانی قیادت نے مذاکرات کی سہولت کاری، کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔
دورے کا پس منظر
خیال رہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے قبل ازیں تصدیق کی تھی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک سرکاری وفد کی قیادت کرتے ہوئے تہران پہنچیں گے۔ تہران پہنچنے پر ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا استقبال کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے، اور پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ واضح رہے کہ یہ رواں سال فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا تیسرا دورہ ہے، جو وسیع تر علاقائی بحران کے پیشِ نظر تہران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطے برقرار رکھنے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان تعمیری مذاکرات اور مزید کشیدگی روکنے کی کوششوں کی حمایت کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔