نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 469 ہوگئی ہے، جبکہ 900 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔
نیپالی حکام کے مطابق سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد افراد لاپتا ہوئے، جن میں تقریباً 500 غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ چین میں اب تک 3 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
ایک اور جھیل پھٹنے کا خطرہ
سیلاب کے بعد ملبے کے باعث بھوٹیکوشی دریا کا راستہ بند ہونے سے ایک جھیل بن گئی ہے، جس میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جھیل کا بند ٹوٹنے سے اچانک سیلابی ریلا آسکتا ہے، جس سے مزید تباہی کا خطرہ ہے۔
امدادی کارروائیاں
امدادی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد اور لاپتا شہریوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے جبکہ ہیلی کاپٹروں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپالی حکام کے مطابق دریائی نظام سے اب تک 103 لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اضافی انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
دیکھیے: نیپال، تبت میں تباہ کن سیلاب، 273 سے زائد افراد ہلاک، 1500 لاپتہ