افغانستان میں طالبان کے خلاف سڑکوں پر احتجاج نہ ہونے کو حکومتی قبولیت سے تعبیر کرنا حقیقت کے برعکس ہے۔
سیاسی و سماجی مبصرین کے مطابق یہ خاموشی عوامی حمایت یا رضامندی نہیں ہے۔ کیونکہ اختلافِ رائے پر کڑی سزائیں اور آزاد صحافت کا خاتمہ بولنے کی ہر گنجائش ختم کر چکا ہے۔
اس لیے افغان شہریوں کی خاموشی دراصل خوف، جبر اور بدترین دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ عام افغان شہری کے لیے حکومت کی کسی پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنا ممکن نہیں رہا۔
علاوہ ازیں ذرا سی تنقید پر قید اور تشدد کے خطرات کے باعث لوگ خاندانوں کی حفاظت کی خاطر چپ سادھے ہوئے ہیں۔
خواتین اور بچیوں کے حقوق پر سخت پابندیوں نے معاشرے کے ہر طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگرچہ عوام کے دلوں میں موجودہ صورتحال کے خلاف شدید بے۔
دیکھیے: افغانستان میں مسلح مزاحمت تیز: 5 صوبوں میں طالبان فورسز اور چوکیوں پر حملے