افغانستان میں عوام شدید غربت کا شکار ہیں۔ لیکن طالبان حکومت نے نفسیاتی جنگ اور پراپیگنڈا پر کروڑوں افغانی خرچ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

September 11, 2026

صوابی میں اسکول کی بچیاں نالے سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ پل نہ ہونے سے ان کی جان کو روزانہ خطرہ رہتا ہے۔

September 11, 2026

ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ ہوا ہے۔ اس لیے دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور امن و سلامتی پر بات چیت کی۔

September 11, 2026

کرم میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

September 11, 2026

تمپ میں سکیورٹی فورسز نے فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیا، پروٹیکشن اسکواڈ کے تمام اہلکار محفوظ رہے۔

September 11, 2026

پشاور میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں داعش خراسان کے 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جن میں اہم کمانڈر عمران عرف ابو بکر بھی شامل ہے۔

September 11, 2026

افغانستان: 4 روز میں 6 صوبوں پر حملے، طالبان کے خلاف مسلح کارروائیاں تیز

افغانستان میں مسلح مزاحمت نے اچانک شدت اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ چار روز کے دوران چھ اہم صوبوں میں طالبان کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس مراکز پر پے در پے حملے کیے گئے ہیں۔
افغانستان میں مسلح مزاحمت: 6 صوبوں میں حملے

افغانستان میں مسلح مزاحمت کی لہر پھیل گئی۔ کاپیسا، قندھار اور بدخشاں سمیت 6 صوبوں میں طالبان اہلکاروں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

September 11, 2026

افغانستان میں مسلح مزاحمت کے دائرہ کار میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ محض چار روز کے مختصر عرصے میں ملک کے چھ مختلف صوبوں میں کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔

ان حملوں میں قندھار، خوست، غزنی، کنڑ، کاپیسا اور بدخشاں کو نشانہ بنایا گیا۔ کیونکہ مخالف مزاحمتی گروہوں نے طالبان کی فوجی تنصیبات اور انٹیلی جنس نیٹ ورک پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

اس لیے طالبان حکومت کے داخلی سیکیورٹی نظام پر غیر معمولی دباؤ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ ان کارروائیوں میں پولیس، امر بالمعروف حکام اور چیک پوسٹوں کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا۔

کاپیسا حملہ

تازہ ترین حملہ صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب میں نو ستمبر کی شب پیش آیا۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے سابق نیشنل آرمی کے اڈے پر قائم طالبان کی چوکی پر دھاوا بولا۔ اگرچہ طالبان سیکیورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کا دعویٰ کیا ہے۔

لیکن حملے کے نتیجے میں 3 طالبان اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ طالبان کے نفاذِ شریعت اور اخلاقی پولیس کے اہلکار بھی زد میں آئے ہیں۔

جنوبی صوبوں قندھار اور غزنی سے لے کر مشرقی و شمالی علاقوں تک پھیلے ہوئے یہ حملے نئی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔

کیونکہ وسیع جغرافیائی رقبے پر پھیلی کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ مزاحمت اب کسی ایک وادی تک محدود نہیں رہی۔ اس لیے دارالحکومت سمیت صوبائی مراکز میں مکمل سیکیورٹی بحالی کے سرکاری دعووں پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

انٹیلی جنس اہلکاروں کا مسلسل نشانہ بننا طالبان کی زمینی نگرانی اور معلوماتی نیٹ ورک کی خامیوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ تاہم سخت فوجی نگرانی اور تلاشی مہم کے باوجود گوریلا طرز کی ان کارروائیوں کا تسلسل برقرار ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں مسلح مزاحمت تیز: 5 صوبوں میں طالبان فورسز اور چوکیوں پر حملے

متعلقہ مضامین

افغانستان میں عوام شدید غربت کا شکار ہیں۔ لیکن طالبان حکومت نے نفسیاتی جنگ اور پراپیگنڈا پر کروڑوں افغانی خرچ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

September 11, 2026

صوابی میں اسکول کی بچیاں نالے سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ پل نہ ہونے سے ان کی جان کو روزانہ خطرہ رہتا ہے۔

September 11, 2026

ایرانی وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل سے رابطہ ہوا ہے۔ اس لیے دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور امن و سلامتی پر بات چیت کی۔

September 11, 2026

کرم میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔

September 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *