لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

ایک قیدی کو خصوصی علاج ملا، اب باقی قیدیوں کا حق کیا ہوگا؟

ایک قیدی کو علاج کی خصوصی سہولت ملنے کے بعد سوال اٹھ گیا کہ کیا یہی حق ملک کے دیگر قیدیوں کو بھی حاصل ہوگا؟
ایک قیدی کو خصوصی علاج، باقی قیدیوں کا حق کیا ہوگا؟

ایک قیدی کے علاج سے متعلق عدالتی حکم کے بعد آرٹیکل 25 کے تحت مساوات کا سوال سامنے آگیا۔ دیگر قیدی بھی اسی سہولت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

September 16, 2026

سپریم کورٹ کے ایک قیدی کو علاج کے حوالے سے دیے گئے حکم کے بعد وہ اہم قانونی سوال دوبارہ سامنے آگیا ہے جس کی نشاندہی قانونی ماہرین فیصلے کے فوراً بعد کر چکے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جیل میں موجود کسی قیدی کو علاج کی سہولت جیل قوانین اور آئینی حدود کے تحت ملے گی یا وہ اپنی پسند کے ہسپتال اور معالج سے علاج کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

دنیا بھر میں قیدیوں کے علاج کے لیے باقاعدہ قانونی اور انتظامی طریقۂ کار موجود ہے۔ پاکستان میں بھی جیل قوانین کے تحت قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم کسی ایک قیدی کے لیے غیر معمولی سہولت کا معاملہ اب مساوات کے آئینی اصول کے تناظر میں نئے سوالات پیدا کر رہا ہے۔

آرٹیکل 25؟

آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات کا اصول بیان کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ سوال سامنے آیا کہ اگر ایک قیدی کو اپنی پسند کے ہسپتال یا معالج سے علاج کی خصوصی سہولت دی جاتی ہے تو پھر یہی حق دوسرے قیدیوں کو کس بنیاد پر نہیں ملے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق ایک قیدی کو ایسی سہولت ملنے کے بعد دیگر قیدی بھی مساوی سلوک کا حوالہ دے کر اسی نوعیت کی سہولت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

یہ صورتحال جیل انتظامیہ کے لیے بھی ایک بڑا قانونی اور انتظامی سوال پیدا کرسکتی ہے۔ اگر ایک قیدی کے لیے خصوصی معیار طے ہوتا ہے تو دوسرے قیدی بھی اسی معیار کو اپنے معاملات پر لاگو کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

حکومت کا عدالت سے رجوع

فیصلے کے بعد حکومت نے اس معاملے پر دوبارہ غور کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ حکومت کی درخواست کا بنیادی مقصد ایسا اصول وضع کرانا تھا جو تمام قیدیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوسکے۔

تاہم عدالت کے سامنے اٹھنے والے بنیادی آئینی سوال پر کوئی ایسا جامع اصول سامنے نہیں آیا جس سے مستقبل میں اسی نوعیت کے معاملات کے لیے واضح معیار طے ہوجاتا۔

یوں علاج کی ایک مخصوص سہولت کا معاملہ اب وسیع تر قانونی اور انتظامی بحث میں تبدیل ہوگیا ہے۔

اب دوسرے قیدی بھی

اگر دیگر قیدی بھی اسی عدالتی حکم کو بنیاد بنا کر اپنے علاج کے لیے خصوصی سہولت کا مطالبہ عدالتوں کے سامنے لے کر آتے ہیں تو معاملہ محض انتظامیہ کے فیصلے تک محدود نہیں رہے گا۔

ایسی درخواستوں کی بنیاد سابقہ عدالتی حکم اور اس سے پیدا ہونے والا مساوات کا آئینی سوال ہوگا۔ اس لیے آئینی عدالت کے سامنے آنے والے معاملات میں یہ پہلو اہم ہوسکتا ہے کہ ایک قیدی کے لیے دی گئی سہولت کے قانونی اثرات دیگر قیدیوں کے حقوق پر کس حد تک مرتب ہوتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ قیدیوں کے علاج کی سہولت قانون، جیل قواعد اور آئینی اصولوں کے تحت کس حد تک دی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی طے ہونا ہے کہ کسی مخصوص قیدی کے لیے دی گئی غیر معمولی سہولت کو دیگر قیدیوں کے معاملے میں کس قانونی معیار کے تحت دیکھا جائے گا۔

اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو ایک فرد کے لیے قائم ہونے والی عدالتی نظیر کے اثرات بھی اسی مساوات کے اصول کے تحت دیکھنا ہوں گے۔ یہی معاملہ اب جیل انتظامیہ، حکومت اور عدالتوں کے سامنے ایک اہم قانونی سوال کے طور پر موجود ہے۔

دیکھیے: عوامی نعروں سے اشرافیہ کلچر تک: عمران خان پر اشرافیہ کلچر کے فروغ پر شدید تنقید

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *