وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ کی صورت میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے بھی اس موقف کی تائید کی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اس صورتحال پر غور کے لیے تفصیلی مشاورت شروع کر دی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت پارٹی قیادت کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں حکومتی کمیٹی سے ہونے والی بات چیت پر شرکا کو اعتماد میں لیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران وفاقی وفد نے خیبر پختونخوا حکومت کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بانی چیئرمین سے ملاقات کی شرط رکھنے پر غور کیا۔ رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ ملاقات کی اجازت ملنے پر دیگر امور طے ہو سکتے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں ہونے والی نشست کے دوران وزیر داخلہ نے صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال پر کے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پی ٹی آئی وفد نے صوبائی حکومت پر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سیاسی معاملات پر توجہ دینے پر زور دیا۔
دیکھیے: حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم، کل دوبارہ بیٹھک ہوگی