وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکراتی عمل اور خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی معاملات پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی حلقوں اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے حکومتی مذاکرات کاروں پر الزامات لگائے جا رہے ہیں، جس کے بعد اس پورے معاملے کے اصل حقائق منظرِ عام پر لائے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور سیاسی قیادت کے پاس کوئی اختیارات نہیں تھے اور وہ محض پیغام رسانی کا کام کر رہے تھے۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ تمام مذاکرات اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر میں باقاعدہ سویلین فریم ورک کے تحت منعقد ہوئے۔
اس مذاکراتی بیٹھک میں رانا ثناء اللہ، انجینئر امیر مقام اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت مکمل اختیار کے ساتھ شریک رہی۔ بات چیت کی ہر پیش رفت سے وزیراعظم اور صدرِ مملکت کو مسلسل آگاہ رکھا گیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پورا عمل جمہوری اور آئینی انداز میں آگے بڑھایا گیا۔
مذاکرات میں پیش رفت رکنے کا اصل سبب پی ٹی آئی کا ایک مخصوص نکتے پر عدم تعاون بنا۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر تحریری تعاون کی یقین دہانی کرانے سے صاف انکار کیا، جس کی وجہ سے یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔
اس تعطل کے بعد الزامات کا رخ موڑتے ہوئے یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ ریاست پشتون عوام کو دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ریاستی اداروں نے کبھی پشتون قوم پر ایسا کوئی لیبل نہیں لگایا بلکہ چند قانون شکن عناصر کے منفی پراپیگنڈے کے لیے ڈیجیٹل دہشت گردی کی مخصوص اصطلاح استعمال کی گئی تھی۔
حکومتی حلقوں کے مطابق خیبر پختونخوا میں پولیس اہلکار، شہری اور سیکیورٹی فورسز مسلسل دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایسے حالات میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ناگزیر ہیں اور ریاستی سلامتی سے جڑے اس قومی فرض کو کسی بھی سیاسی جماعت کے ویٹو سے روکا نہیں جا سکتا۔
دارالحکومت کی طرف مارچ کے حوالے سے بھی الزامات اور دھمکیوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اس پر قانونی پوزیشن واضح کر دی گئی ہے کہ پرامن احتجاج ہر جماعت کا حق ہے مگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق طاقت کے بل بوتے پر وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق لگائے گئے الزامات بھی غلط ثابت ہوئے ہیں۔ یہ کوئی خفیہ یا ماورائے قانون اقدام نہیں بلکہ ملکی آئین میں موجود ایک واضح آپشن ہے، جس کے نفاذ کا فیصلہ صرف اور صرف آئینی تقاضوں کے پورا ہونے پر ہی کیا جاتا ہے۔
اسی طرح خارجہ پالیسی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی من گھڑت کہانیاں گھڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے امن اور ثالثی کے کردار کو سراہ رہی ہے اور خطے میں کسی قسم کی غیر ملکی راہداریوں کے دعوے بے بنیاد پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طرف مذاکرات کی میز پر بیٹھنا اور دوسری طرف حکومتی نمائندوں پر الزامات تراشی کر کے تصادم کی فضا بنانا متضاد حکمت عملی ہے، جس سے سیاسی مسائل کا حل ممکن نہیں ہو سکتا۔