سوشل میڈیا پر مغربی افغانستان میں 40 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری سے متعلق گمراہ کن دعوے کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری دستاویزات اور خبر رساں اداروں کے مطابق ان مبالغہ آمیز دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
رواں سال ستمبر کے اوائل میں سعودی عرب کی ایک نجی کمپنی ڈیلٹا انٹرنیشنل انرجی نے طالبان کی وزارتِ معادن کے ساتھ شراکت کا معاہدہ کیا۔ یہ 25 سالہ معاہدہ مغربی افغانستان کے کشک۔تیرپل بیسن کے لیے کیا گیا ہے۔
افغان حکام کے مطابق اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے کے لیے تقریباً 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔ یہ رقم پہلے آٹھ سالہ تلاشی مرحلے کے دوران خرچ کی جائے گی۔
معاہدے کی شرائط کے تحت اگر گیس کے تجارتی ذخائر دریافت ہوتے ہیں تو اس منصوبے کا حجم بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گیس پائپ لائن کی تعمیر اور مزید مالی منظوری ملنے پر ہی آئندہ برسوں میں نئی سرمایہ کاری ممکن ہوگی۔
تاہم، یہ نام نہاد دانشور انتہائی مبالغہ آمیز دعویٰ کرتے ہوئے 40 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سعودی سرمایہ کاری کی بات کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق 200 ملین ڈالر کے ابتدائی منصوبے کو 40 ارب ڈالر بنا کر پیش کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ عوامی سطح پر بغیر تصدیق کے اس نوعیت کے من گھڑت اعداد و شمار پھیلانا صحافتی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔
دیکھیے: ذبیح اللہ مجاہد کا بیان پراپیگنڈا قرار؛ دہشت گردوں کو شہری ظاہر کرنے کے دعوؤں پر تنقید