مظفر آباد: حکومت آزاد کشمیر کے ترجمان نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رویے اور احتجاجی روش پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے، جبکہ حکومت نے ہمیشہ مذاکرات، ریلیف اور فیصلوں پر عمل درآمد کا راستہ اختیار کیا ہے۔
حکومتی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لچک دکھانے کے بجائے دباؤ اور سڑک کی سیاست کو ترجیح دی ہے۔ ترجمان کے مطابق کمیٹی کے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج پر اصرار کرنا عوامی مفاد نہیں بلکہ خالصتاً سیاسی ضد کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، مگر اس کی آڑ میں قانون ہاتھ میں لینے، راستے بند کرنے اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو عوامی مطالبات کے نام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ آزاد کشمیر کو اس وقت مسلسل احتجاج کی نہیں بلکہ استحکام، مکالمے اور عملی حل کی ضرورت ہے۔
حکومت آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ 9 جون کو شیڈول انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں عوامی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی سازش ہے۔ عوام کو بندشوں، ہڑتالوں اور دباؤ کی سیاست کے بجائے ووٹ، مکالمے اور آئینی عمل پر اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے۔
حکومت نے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی نے افہام و تفہیم کے بجائے محاذ آرائی کا راستہ منتخب کیا۔ ترجمان نے اعادہ کیا کہ آزاد کشمیر کے امن و استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوامی زندگی کو یرغمال بنانے کی ہر کوشش کو قانون کے دائرے میں رہ کر ناکام بنایا جائے گا۔