خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی 13 سالہ تاخیر اور ایک نابینا پر نقل کا پرچہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ بصیرت سے محروم بدعنوان انتظامی نظام کا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کے جغرافیائی پھیلاؤ اور قندھار سمیت اہم مراکز میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے سے طالبان رجیم کا حفاظتی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے کے بعد خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال بگڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے امن کے بجائے اسلام آباد مارچ کو ترجیح دینے پر صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
خوارج کی اصل جنگ ریاستی نظام سے نہیں بلکہ اس معتبر دینی فہم کے خلاف ہے جو خودکش حملوں اور تکفیر کو مسترد کرتا ہے، جس کی پاداش میں مولانا حسن جان، ڈاکٹر سرفراز نعیمی اور شیخ ادریس ترنگزئی سمیت متعدد جید اکابرین کو شہید کیا گیا۔
افغان خواتین کو تعلیم اور روزگار سے محروم رکھنے کی پالیسی صرف خواتین کے بنیادی حقوق کو متاثر نہیں کر رہی بلکہ افغانستان کے تعلیمی، طبی، معاشی اور سماجی مستقبل کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔