یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے اور سکیورٹی فورسز متعدد محاذوں پر متحرک ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے داخلی امن و امان اور سرکاری تنصیبات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔