ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے پراجیکٹ فریڈم کے تحت امریکی جہازوں یا تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اسے دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔
ایرانی عسکری ذرائع نے متحدہ عرب امارات کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اسرائیل کے آلہ کار نہ بنیں۔ ایرانی حکام نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی قسم کی عسکری غلطی کا انتہائی شدید اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
طالبان کی موجودہ قیادت کی ساخت پر نظر ڈالی جائے تو یہ 85 سے 95 فیصد پشتونوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 85 فیصد اہم وزارتیں بھی اسی مخصوص گروپ کے ہاتھ میں ہیں۔
یہ افراد طالبان کی سرپرستی میں نہ صرف اہم عہدوں پر براجمان ہیں بلکہ ریاستی پالیسی سازی اور حکومتی امور میں بھی ان کا کلیدی کردار ہے، جو کہ خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
کمپنی نے 2021 کی قسط تو جمع کرائی، تاہم 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔ سی ڈی اے نے متعدد یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ پہلی شرط ایران کے آئینی اور جوہری حقوق کو تسلیم کرنا ہے جبکہ دوسری شرط جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنا ہے
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان فضائی کارروائیوں کا ہدف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانے تھے جو مبینہ طور پر افغان طالبان کی بعض فوجی تنصیبات اور مراکز کے اندر یا ان کے قریب پناہ لیے ہوئے تھے۔
بلخ کے طالبان گورنر کے ترجمان نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ قبضے میں لیے گئے امریکی ہتھیاروں سے ہی واشنگٹن کو سخت جواب دینے کی بھرپور صلاحیت اور ارادہ رکھتے ہیں
حکومت نے ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج افغانستان کی صورتحال پر ہو رہا ہے۔ جارجٹ گیگنون افغان معاشی، سیاسی اور انسانی حقوق کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دیں گی
افغان ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات کو مبصرین “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔
مجموعی طور پر ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر علاقائی قوتیں اپنے اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔