اکتوبر 2005 کی وہ صبح 21 برس بعد بھی ختم نہیں ہوئی۔ مظفرآباد، بالاکوٹ اور باغ کی گلیوں میں آج بھی کوئی ماں کسی تصویر کو دیکھ کر خاموش ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس دکھ سے کیا سیکھا؟
آج وسطی ایشیا کے ممالک کے لیے ایک نئی موقع کی کھڑکی کھل رہی ہے، جس میں وہ افغانستان کو محض ایک حفاظتی بفر یا عدم استحکام کے مرکز کے بجائے، ایک ممکنہ شراکت دار اور نئے علاقائی ڈھانچے کے عنصر کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔