بھارت اور چین کے درمیان اصل جھگڑا سرحد کی ادھوری حد بندی اور تاریخ کی مختلف تشریحوں کا ہے۔ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کہتا ہے اور میک موہن لائن کو تسلیم نہیں کرتا، جبکہ بھارت اروناچل کو اپنی ریاست اور اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے اور اسی لکیر کو اپنی مشرقی سرحد کی بنیاد مانتا ہے۔
ملاقات میں افغانستان کے نائب وزیر داخلہ مولوی محمد نبی عمری، نائب وزیر برائے سلامتی امور مولوی محمد ابراہیم صدر، انسداد منشیات کے ڈپٹی عبدالحق ہمکار اور پبلک سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی مولوی سید اللہ حماس سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
امریکی محکمہ انصاف کے ریکارڈز کے مطابق بھارت کے بڑے کارپوریٹ ادارے جن میں اڈانی اور ٹاٹا گروپ شامل ہیں، نے واشنگٹن میں معروف لابنگ اداروں جیسے "کرک لینڈ & ایلس" اور "کیون ایمول" کی خدمات حاصل کیں۔
دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں۔ 19 جولائی 1947 کو کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا تاہم بھارت نے بےجا طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر لیا۔ بھارتی ظلم و جبر کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے کشمیری آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں کابل میں امارتِ اسلامیہ کی منسٹری آف پبلک ورکس، ازبکستان کے وزارتِ ٹرانسپورٹ اور پاکستان کے وزارتِ ریلوے کے درمیان سہ ملکی ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کردیے گئے۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغان قیادت کی مہماننوازی پر شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔
پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے کی، جبکہ یورپی یونین کی نمائندگی یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سفیر اولاف سکوگ نے کی۔
اسحاق ڈار کی افغان وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات پر اہم بات چیت ہوئی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اس وقت سہہ فریقی کانفرنس میں شرکے کیلئے اپنے وفد کے ہمراہ کابل میں موجود ہیں۔
کابل میں آمد کے فوراً بعد امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی میزبانی میں ایک سہ فریقی سیاسی مشاورتی اجلاس منعقد ہوگا جس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔