افغان طالبان کی جانب سے انسانی ڈھال اور پروپیگنڈا کا خطرناک کھیل بے نقاب؛ کنڑ کے علاقے ڈانگام میں سویلین نقصانات کے من گھڑت دعووں کی آڑ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو چھپانے کی مذموم کوشش۔
کراچی پولیس نے کم عمر لڑکی کو دہشت گردی کے جال سے بچا کر بی ایل اے کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیا؛ مہرنگ اور شاری بلوچ کی ویڈیوز کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کی ذہن سازی کا انکشاف۔
طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی افغان لڑکی کی آپ بیتی؛ دہشت گردی کے زخموں سے لے کر تعلیمی پابندیوں تک، افغان خواتین کے مخدوش مستقبل پر ایک دردناک رپورٹ۔
طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ آخوندزادہ نے افغانستان کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا حکم دیتے ہوئے وزیر مواصلات سمیت 19 صوبوں کے گورنرز، نائب گورنرز اور پولیس چیفس کے تبادلے کر دیے ہیں۔
ملا ہیبت اللہ کا یہ خطرناک دعویٰ قرآنِ حکیم کی آیتِ کریمہ "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ" (النساء: 59) کو بنیاد بنا کر کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ذات کے لیے اطاعتِ مطلقہ کا دعویٰ کرے، تو یہ دعویٰ درحقیقت نصوصِ شرعیہ کے فہم میں ایک ایسی لغزش ہے جو علم کی کمی سے نہیں بلکہ ترتیبِ استدلال کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔
میڈیا نیٹ ورکس اسلام فوبیا کو ہوا دے کر معاشرتی تقسیم بڑھا رہے ہیں؛ لوری واٹکنز نے صحافیوں کو جھوٹے پروپیگنڈے اور نفرت انگیز بیانیے کے خلاف سینہ سپر ہونے کی کال دے دی
پاکستان نے 'آپریشن غضب للحق' کے تحت کابل اور ننگرہار میں طالبان کے زیرِ اثر عسکری مراکز تباہ کر دیے؛ ثانوی دھماکوں نے وہاں موجود اسلحہ کے بڑے ذخائر کی موجودگی ثابت کر دی
بھارتی کرنل راجیش پوار کا پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے تہلکہ خیز اعتراف؛ بھارت، اسرائیل اور افغانستان کے گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف مذموم عزائم کا پردہ چاک
مبصرین کا کہنا ہے کہ مذہبی اور تاریخی معاملات پر بحث کرتے وقت ذمہ دارانہ گفتگو اور مستند معلومات کو بنیاد بنایا جانا چاہیے تاکہ غلط فہمیوں اور تعصبات سے بچا جا سک
ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر جانچ پڑتال ناگزیر ہے تاکہ پناہ کے نظام کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے اور حقیقی متاثرین کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو کسی بھی صورت میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور ملک کو ایک بار پھر جنگ اور تصادم کی سیاست سے نکالا جائے۔
حرمین شریفین کے امور کی جنرل اتھارٹی کے مطابق زائرین کی تعداد کو مانیٹر کرنے کیلئے جدید سینسر ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جس سے ہجوم کے بہاؤ کو منظم کرنے اور انتظامی امور کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے