امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جن سے ایران میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں روس اور افغانستان کے درمیان رابطوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سیکیورٹی، تجارت اور علاقائی استحکام جیسے موضوعات شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ قدم خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی حرکیات کی نشاندہی کرتا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق شہید ریحان زیب خان نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ، امن کے قیام اور معاشرتی بہتری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے، انتہا پسندی کے خلاف آگاہی پھیلانے اور سماجی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کی۔
بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ کے ساتھ تاریخی ملاقات میں، صدر زرداری نے تجارت، دفاع اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا اور بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی
حالیہ عرصے میں ای ٹی آئی ایم/ای ٹی ایل ایف سے وابستہ شدت پسندوں کے ایک ڈرون حملے میں تاجکستان میں چینی ورکرز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد بیجنگ نے علاقائی سطح پر ’’ٹرانس نیشنل دہشت گرد نیٹ ورکس‘‘ کی موجودگی اور ان کے بڑھتے خطرے کو غیر معمولی سنجیدگی سے اٹھایا ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ خطرہ ایک ایسی ’’مربوط اور پیشگی طے شدہ کارروائی‘‘ سے جڑا ہوا ہے جس میں طالبان کی انٹیلی جنس، تحریک طالبان پاکستان، ترکستان اسلامک پارٹی، اور مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی حمایت شامل ہے۔
وزارتِ خارجہ نے اس جانب بھی توجہ مبذول کرائی کہ پاکستان خود بھی متعدد مرتبہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا نشانہ بن چکا ہے، اس لیے پاکستانی عوام چین اور تاجکستان کے غم اور تکلیف کو پوری طرح محسوس کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے چین کو پاکستان کا قابلِ اعتماد شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام کی مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں
ترجمان دفترِ خارجہ ماؤ نِنگ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے الزامات بے بنیاد ہیں، چین کے جوہری پروگرام محفوظ ہیں جبکہ امریکا کو عالمی امن و استحکام کے لیے مزید اقدامات کرنے ہونگے