"> افغانستان Archives - Page 44 of 70 - HTN Urdu

Category: افغانستان

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مولانا فضل الرحمٰن سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ زمینی حقائق پر کرنے اور قومی سلامتی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنے کی اپیل کی ہے۔

خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کی سیاست، افغان طالبان سے روابط، تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر مؤقف اور دینی مدارس کے سیاسی اثر و رسوخ کا جائزہ۔

بیرونِ ملک تعلیم کا خواب دھوکے میں نہ بدلنے دیں۔ ایجنٹ کے دعووں، فیس اور داخلے کی تصدیق کرکے اپنے مستقبل اور رقم کو محفوظ بنائیں۔

جنرل سید عامر رضا نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرحد پار دراندازی برداشت نہیں کرے گا اور ملکی دفاع کے لیے تیار ہے۔

چاغی کے علاقے دالبندین میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 مطلوب دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

ان تبدیلیوں کے تحت صوبہ سرپل کے گورنر مولوی محمد ظریف مظفر کو 205 البدر کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جبکہ پنجشیر اسپیشل بریگیڈ کے نائب کمانڈر ملا عتیق اللہ حبیب کو اسی کور کا معاون بنایا گیا ہے۔ اسی طرح 203 منصوری کور، 209 الفتح کور اور 215 العزم کور میں بھی اہم عسکری تبادلے کیے گئے ہیں، جبکہ وزارتِ دفاع میں متعدد محکموں کی قیادت تبدیل کر دی گئی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران انہوں نے امریکی فوج کو دوبارہ مضبوط بنایا، تاہم بعد ازاں اس طاقت کا ایک بڑا حصہ ’’انتہائی غیر دانشمندانہ‘‘ انداز میں افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔ ان کے بقول، بظاہر یہ تھوڑا سا لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ بھاری مقدار میں جدید فوجی سازوسامان تھا جو طالبان کے ہاتھ لگا۔

افغان جریدے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 میں طالبان نے ملک بھر میں سابق فوجی اہلکاروں کو منظم طور پر نشانہ بنایا، جس کے دوران 123 ہلاکتیں اور 131 افراد پر شدید تشدد کیا گیا

صوبہ فراہ میں طالبان گورنر سے وابستہ افراد نے بھی کئی سونے کی کانوں پر قبضے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔ یہاں بسم اللہ مستری اور محمود نامی گورنر کے کارندے لوٹ مار اور قبضے میں پیش پیش پیش دکھائی دیتے ہیں ۔ بدخشاں کے ضلع جرم کے طالبان ضلعی گورنر مولوی غیاث، جو ضلع یفتل کے رہائشی ہیں، نے بھی کئی منصوبوں پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے اور کان کنی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

طالبان حکومت کے اعلیٰ سفارتکار سہیل شاہین نے نئے سال کی شروعات میں اقوامِ متحدہ پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ افغانستان کی حقیقی حکومت کو تسلیم نہ کر کے سیاسی تعصب کا مظاہرہ کر رہا ہے

مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں حالیہ صورت حال کو "انسانی بحران" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ جبر اب استثنا نہیں بلکہ منظم ریاستی پالیسی بن چکا ہے

سکیورٹی سے متعلق طالبان کے بیانات کو بھی گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ القاعدہ اور داعش خراسان کی موجودگی اور سرحد پار دہشت گردی نے ہمسایہ ممالک کے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کا سکیورٹی ڈھانچہ اب تک نہ تو اندرونی تحفظ یقینی بنا سکا ہے اور نہ ہی علاقائی استحکام میں مثبت کردار ادا کر پایا ہے۔

اس امداد کے تحت ایک مشترکہ فنڈ قائم کیا جائے گا، جس سے مختلف اقوامِ متحدہ کے اداروں اور ترجیحات کے مطابق رقوم جاری کی جائیں گی۔ یہ امریکی مطالبات اقوامِ متحدہ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں، جن پر انسانی امدادی کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کئی پروگرام پہلے ہی شدید کمی کا شکار ہو چکے ہیں۔

افغان طالبان خواتین کی ملازمت کو سوشل میڈیا پر نمایاں کر رہے ہیں مگر خواتین پر عائد پابندیاں تعلیم، ملازمت اور سماجی شمولیت محدود کرتی ہیں اور ہیرات کارخانے کی ویڈیو دکھانا دراصل اپنی ناکامیوں اور سختیوں کو چھپانے کا طریقہ ہے

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 16ویں رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت مرکزی اختیار، نظریاتی کنٹرول اور محدود ادارہ جاتی صلاحیت پر مبنی ہے۔ سربراہ مولوی حبیب اللہ اخوندزادہ کو مطلق اختیارات حاصل ہیں اور وہ زیادہ تر فیصلے مذہبی فرامین کے ذریعے کرتے ہیں