وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خصوصی خط کونسل کی صدر کے حوالے کر دیا ہے۔
امریکہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
اس تجارتی کامیابی کی بنیادی وجہ گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت فضائی تنازع کے دوران ’جے ٹین سی لڑاکا طیاروں کی بہترین کارکردگی ہے۔ پاک فضائیہ نے ان سنگل انجن ملٹی رول طیاروں کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے جدید ترین رافیل اور دیگر طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔
صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ چین کے ان صوبوں پر مرکوز ہے جو صنعتی، زرعی اور تکنیکی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق صدر زرداری کی جانب سے ہونان اور ہینان کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب چین کے ساتھ تعاون کو صرف وفاقی سطح تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ صوبائی اور علاقائی سطح پر بھی اشتراکِ عمل کا خواہاں ہے۔
ایران میں چینی سفارت خانے نے صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر تمام چینی شہریوں کو فوری ملک چھوڑنے کا دوسرا ہنگامی نوٹس جاری کر دیا ہے، جس سے خطے میں بڑے فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات؛ چین نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں پر پاکستان کے کلیدی کردار کی بھرپور حمایت کر دی۔
چین نے امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز ’ایم وی توسکا‘ کو قبضے میں لینے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو نازک مرحلے پر قرار دے دیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کو اپنے تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تلقین کی ہے؛ بیجنگ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا
سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ پاک چین امن منصوبہ عالمی نظام میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اب ایک نیا 'ورلڈ آرڈر' تشکیل دینا چاہتا ہے