شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟
کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کو اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی خدشات اس حد تک سنگین تھے کہ امریکی وفد کے ارکان اپنے ساتھ ذاتی الیکٹرانک ڈیوائسز بھی چین نہیں لے کر گئے تھے۔ وفد کے متعدد اراکین نے اپنے ذاتی فون اور لیپ ٹاپس امریکہ میں ہی چھوڑ دیے تھے
وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ اور شی جن پنگ ملاقات کی تفصیلات جاری کر دیں، جس میں چین نے امریکی تیل کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے جبکہ بیجنگ نے تائیوان کو دو طرفہ تعلقات کے لیے سب سے اہم قرار دیا ہے۔
روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ چینی صدر سے ایران جنگ پر تفصیلی بات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ چین کو امریکی منڈیوں کے لیے مزید کھولنے کا مطالبہ بھی کریں گے۔
چینی اور پاکستانی کاروباری اداروں کے درمیان ہونے والی یہ ملاقاتیں پاکستان میں صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ان معاہدوں سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان کو اپنی مصنوعات وسطی ایشیا اور دیگر علاقائی منڈیوں تک پہنچانے میں بھی مدد ملے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے بیجنگ پہنچیں گے، جہاں ان کی توجہ تجارت اور اقتصادی تعلقات پر مرکوز ہوگی، تاہم عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ایران کے معاملے پر بھی چینی قیادت کے ساتھ اہم پیش رفت متوقع ہے۔
اس مشترکہ کارروائی کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام کو بہتر بنانا اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے آپریشنل تال میل کو بڑھانا ہے۔
چینی ٹی وی پر طیارے کے برآمدی ورژن جے-35 اے ای کی فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں جدید ترین الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹ سسٹم نصب ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان اس دفاعی پیکیج کے تحت تقریباً 40 طیارے حاصل کر سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں ماہ چین کا اہم دورہ متوقع ہے، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے ہوگی۔ دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تجارت، ٹیکنالوجی کے شعبے اور ایران سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
افغان طالبان نے لوگر تانبا منصوبے میں تاخیر پر چینی کمپنیوں سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جبکہ کابل دھماکے کے بعد چینی باشندوں کی نقل و حرکت محدود کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔