Category: معیشت

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

پاکستان اور ترکی نے توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پانچ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرتے ہوئے دونوں ممالک نے سرمایہ کاری، مشترکہ تجارتی کمپنی اور توانائی انفراسٹرکچر میں تعاون پر بھی اتفاق کیا

سرحدی علاقوں کے تاجروں کے وفد نے گورنر خیبرپختونخوا سے افغان سرحد کی بندش سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات پر بات کی، گورنر نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت رواں مالی سال کے اختتام تک مزید ریکارڈ قائم کر سکتی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے طویل مدتی اصلاحات، جدید کاروباری ماڈل اور عالمی منڈیوں تک رسائی ناگزیر ہے

پاکستان نے اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے پیشِ نظر 11 اکتوبر کو افغان سرحد بند کی، نتیجتاً افغانستان کو 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا

عزیزی نے ہندوستان کے ساتھ کابل-نئی دہلی ایئر کوریڈور کی بحالی کا اشارہ بھی دیا ہے، جسے وہ ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ لیکن سابق صدر اشرف غنی کے دور کی طرح، یہ کوریڈور افغان برآمدات کے لیے لاگت، حجم اور تسلسل کے چیلنجز کے باعث معاشی بنیادوں پر مضبوط نہیں ہو سکا تھا۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت برسوں روسی تیل سے اربوں ڈالر کا فائدہ اٹھاتا رہا، لیکن ٹرمپ کی جانب سے لگایا گیا 50 فیصد ٹیرف مودی حکومت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔

نئی اصلاحات اور تین جدید بندرگاہوں سے پاکستان 100۔ 150 ارب ڈالر سالانہ کماتے ہوئے خطے میں بحری تجارتی مرکز کے طور پر ابھرے گا

اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 میں پاک۔افغان دوطرفہ تجارت کا مجموعی حجم 11 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جو ستمبر میں 17 کروڑ 70 لاکھ اور اکتوبر 2024 میں 24 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا۔

یہ تجزیہ اس بات کا جائزہ ہے کہ کس طرح طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں اور سرحد پار دہشت گردی کی مسلسل اجازت نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف ایک اسٹریٹیجک دباؤ کے ٹول میں تبدیل کیا اور نتیجہ افغانستان کے اندر شدید معاشی بحران کی صورت میں نکلا۔