پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے مجموعی 3.45 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی واپسی کا عمل مکمل کر لیا ہے، جس میں ابوظہبی فنڈ کو ادا کی گئی ایک ارب ڈالر کی حالیہ قسط بھی شامل ہے۔
شیڈول کے تحت پہلا جہاز ستائیس سے تیس اپریل کے دوران پہنچے گا۔ دوسرا جہاز یکم سے سات مئی جبکہ تیسرا آٹھ سے چودہ مئی کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد بجلی گھروں اور کارخانوں کو گیس کی فراہمی برقرار رکھنا ہے۔
اسلام آباد میں ہیوی ٹریفک پر پابندی نے توانائی کا بحران پیدا کر دیا؛ اٹک ریفائنری کا مرکزی یونٹ بند، خام تیل کی سپلائی رکنے اور اسٹوریج ٹینکس بھر جانے کے باعث پیداوار معطل۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والا پہلا پاک یورپی تجارتی اشتراک ملک کی معاشی سمت پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے، جس سے دوطرفہ تجارت اور طویل المدتی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
پاکستان کی معیشت، توانائی ضروریات، خلیجی ممالک کے ساتھ مالی روابط، افرادی قوت کی منتقلی اور سفارتی تعلقات اب پہلے سے زیادہ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا سے جڑ چکے ہیں، اسی لیے عالمی ادارے اسے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر کے واجب الادا قرض کی مکمل ادائیگی؛ اسٹیٹ بینک نے رقم کی واپسی کی تصدیق کر دی، سعودی عرب سے موصولہ فنڈز نے ادائیگی کی راہ ہموار کر دی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو جتنا جلد ممکن ہو عوام تک منتقل کیا جائے گا، تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔
ایکسپورٹ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی اور ملکی معیشت کو سہارا ملے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب برآمدات بڑھانا معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔