اسلام آباد: پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات کے شعبے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں روس اور یوریشین اکنامک کمیشن کے رکن 7 ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے، جسے ملکی ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق اس پیشرفت کے بعد پاکستانی فشریز اور سی فوڈ مصنوعات اب روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان اور آرمینیا سمیت یوریشین بلاک کی مارکیٹ میں برآمد کی جا سکیں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ متوقع ہے بلکہ پاکستان کے لیے نئی تجارتی راہیں بھی کھلیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سمندری خوراک کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور پاکستان کے پاس معیاری جھینگا، مچھلی اور دیگر سمندری مصنوعات کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ نئی منڈیوں تک رسائی سے اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اس کامیابی کے لیے پاکستان نے اپنی برآمدی مصنوعات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے، کوالٹی کنٹرول بہتر کرنے اور حفظانِ صحت کے تقاضے پورے کرنے پر خاص توجہ دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یوریشین مارکیٹ تک رسائی کے لیے سخت معیارات پر پورا اترنا ضروری تھا، جس کے بعد یہ پیشرفت ممکن ہوئی۔
ایکسپورٹ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی اور ملکی معیشت کو سہارا ملے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب برآمدات بڑھانا معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات کا بڑا حصہ چین، مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک کو جاتا ہے، تاہم روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی منڈیوں تک رسائی سے برآمدی دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔
دیکھئیے:شہباز شریف کی محمد بن سلمان سے جدہ میں اہم ملاقات، علاقائی امن اور پاک سعودی تعاون پر تبادلہ خیال