بگرام ائیربیس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جہاں تین میزائل داغے گئے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اڈے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پانچ فوجی گاڑیاں تباہ ہونے کی خبر ہے۔ ایک طیارہ ہینگر (جہاں طیارے کھڑے اور محفوظ کیے جاتے ہیں) بھی تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔
ذرائع کے مطابق یکم مارچ کو طالبان فورسز نے کابل میں واقع راہِ فردا ٹی وی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا، عملے کو حراست میں لینے اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد نشریاتی آلات اپنی تحویل میں لے لیے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دفتر کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے اور چینل کی تمام نشریاتی سرگرمیاں معطل ہیں۔
1981 میں ایک بم حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ اسی سال صدر منتخب ہوئے۔ 1980 سے جاری ایران عراق جنگ نے ان کے دورِ صدارت کو شکل دی۔ اگرچہ اس وقت زیادہ اختیارات وزیرِ اعظم کے پاس تھے، مگر خامنہ ای نے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور دفاعی و سلامتی معاملات میں اپنی گرفت مضبوط کی۔
علی خامنہ ای 17 جولائی 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے، جو ایران کا ایک مقدس شہر ہے اور امام رضا کے مزار کی وجہ سے معروف ہے۔ ان کے والد، آیت اللہ جواد خامنہ ای، ایک آذربائیجانی-ایرانی شیعہ عالمِ دین تھے جو سخت مذہبی نظم و ضبط کے قائل تھے۔ ان کا خاندان نہایت سادہ اور قناعت پسند زندگی گزارتا تھا۔
دوسری جانب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس موقع پر ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کے خلاف اصولی موقف اپنانے پر پاکستان، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ایران پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سفارتی اور اخلاقی سطح پر ایران کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ میں بھی ایران کے خلاف حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
یوناما کی تازہ رپورٹ بین الاقوامی اداروں کی دوغلی پالیسی کی آئینہ دار ہے، جو صرف ایک رُخ دیکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ رپورٹ نے پاکستان کے دفاعی اقدامات پر تو آنسو بہائے، لیکن ان افغانستان سے منصوبہ بند دہشتگرد حملوں کا ذکر تک نہیں کیا جنہوں نے 2025 میں ہی 1,957 پاکستانی شہریوں کو شہید اور 3,603 کو زخمی کیا۔ ظاہر ہے، یوناما کی ہمدردی سرحد کے ایک خاص طرف ہی محدود رہتی ہے
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، ماورائے عدالت قتل، گھروں کی مسماری، مذہبی آزادیوں پر قدغنیں اور میڈیا پر پابندیاں نہ صرف عالمی قوانین بلکہ بنیادی انسانی اقدار کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ بھارتی اقدامات سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ طاقت کے ذریعے ایک قوم کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم و جبر کبھی آزادی کی جدوجہد کو ختم نہیں کر سکا۔
عالمی اشاریے پاکستان کو یہ نہیں بتاتے کہ کہاں، کیسے اور کن اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ٹیپ اس خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو صوبائی، ادارہ جاتی اور حتیٰ کہ ذیلی سطح پر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل سمت متعین کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات کے لیے آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان کے لیے محض دفاعی حکمتِ عملی کافی نہیں رہی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست نہ صرف چوکس رہے بلکہ جارحانہ رویہ اختیار کرے۔ سفارتی محاذ پر مؤثر انداز میں حقائق کو اجاگر کیا جائے، عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں موجود یکطرفہ بیانیے کا مدلل جواب دیا جائے اور داخلی طور پر انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
ایسے میں نیپاہ وائرس کا بھارت میں سامنے آنا ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً اس وقت جب وہاں کرکٹ جیسے بڑے عالمی ایونٹس کا انعقاد متوقع ہو۔ ورلڈ کپ کے دوران مختلف ممالک سے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کی آمد ہوتی ہے، جس سے احتیاطی تدابیر کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔
عالمی تنظیموں اور میڈیا اداروں کی جانب سے بی ایل اے کو علیحدگی پسند تنظیم کے طور پر پیش کیا جانا بھی اسی بیانیے کی جنگ کا حصہ ہے۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم ہے جو عام شہریوں کے قتل اور اغوا کے سینکڑوں کیسز میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور سکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کا خون اسی تنظیم کے سر ہے۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اور بی ایل اے نے بارہا اپنی کاروائیوں سے ثابت بھی کیا ہے کہ وہ علیحدگی پسند نہیں ایک بے رحم مسلح دہشت گرد تنظیم ہیں۔
IBOs کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نقل مکانی نقصانات سے بچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو اس حکمتِ عملی سے سب سے زیادہ پریشانی ہے، کیونکہ اس سے ان کا ہمدردی پر مبنی جھوٹا بیانیہ خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔
محض بیانات اور گراف عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ عوام ریلیف کو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ بازار کی قیمتوں، بجلی کے بل اور کچن کے اخراجات میں محسوس کرتے ہیں۔ جب تک حکومتی دعوے عوامی تجربے سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک مہنگائی میں کمی کے دعوے محض کاغذی کامیابیاں ہی سمجھے جاتے رہیں گے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب بچوں، بالخصوص بچیوں، کو تعلیم سے روکا جاتا ہے تو نہ صرف ان کا مستقبل تاریک ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرہ جہالت، غربت اور جرائم کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ افغانستان میں تعلیم کی کمی اور منشیات کے پھیلاؤ کے درمیان گہرا تعلق نظر آتا ہے، کیونکہ لاعلمی اور بے روزگاری ایسے مسائل کو جنم دیتی ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
اگر طالبان واقعی اسلامی نظام کے دعوے دار ہیں تو انہیں سب سے پہلے انصاف، تنوع اور انسانی وقار کو تسلیم کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ایسے قوانین کو اصلاح نہیں، ظلم کی دستاویز کے طور پر یاد رکھے گی۔