Category: ایڈیٹر کا انتخاب

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس نے کھٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ناکام بنا دیا، جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خصوصی خط کونسل کی صدر کے حوالے کر دیا ہے۔

امریکہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بلوچستان کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی کشمکش، تجارت کے بدلتے ہوئے راستے اور علاقائی سیاست کی نئی ترتیب بلوچستان کو ایک ایسے مقام پر لا سکتی ہے جہاں سے مستقبل کی علاقائی معیشت اور سیاست کے نئے راستے متعین ہوں گے۔

آپ کو یہ جان کر دکھ ہو گا یہ حرکت آج بھی ختم نہیں ہو سکی ۔ ایشین ٹریبیون کی25 اپریل 2011 کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات ففتھ سٹرائکر برگیڈ کے تھرڈ پلاٹون کی ’براوو کمپنی‘ کے ایک فوجی جرمی مارلوک نے ایک 15 سالہ نہتے افغان لڑکے گل مدین کو قتل کرنے کے بعد اس کی انگلی کاٹ کر سووینیئر کے طور پر اپنے پاس رکھ لی۔ قاتل نے اعتراف کیا اس نے صرف تفریح کے طور پر یہ قتل کیا تھا۔

پاکستان اپنی لڑائی لڑ رہا ہے، اپنی مغربی سرحد کو محفوظ بنا رہا۔ بفرزون بنا رہا۔ افغان طالبان کو اب بھی اگر سمجھ نہیں آئی تو پھر وہ اپنا نصف ملک تاجک، ازبک، ہزار اتحاد کے ہاتھوں گنوا بیٹھیں گے اور واخان کاریڈور پر بھی پاکستانی کنٹرول ہوسکتا ہے۔

حمارت اسلامی افغانستان کے لئے چیلنج صرف اپنے اسلحے کے ذخائر کی بچت ہی نہیں بلکہ ان کی معیشت کا بھی بڑا انحصار پاکستان پر رہا ہے۔ خوراک اور ادویات سمیت ہر اہم چیز یہ پاکستان سے سمگل کرواتے رہے۔

ٹرمپ نے جو جنگ شروع کی ہے یہ جنگ در اصل امریکا کیخلاف جنگ ہے۔ اسرائیل تو پہلے ہی دنیا بھر میں نفرت کی علامت بن چکا۔ ٹرمپ امریکا کو بھی نفرت کی علامت بنا رہے ہیں۔ مسلم دنیا کے وہ حکمران جو ٹرمپ کی زبان سے اپنی تعریفیں سُن کر بہت خوش ہوتے تھے بہت جلد دعائیں مانگیں گے کہ ٹرمپ دوبارہ اُنکی کبھی تعریف نہ کرے کیونکہ ٹرمپ اب امریکا میں بھی نفرت کی علامت بنتا جا رہا ہے-

علی خامنہ ای 17 جولائی 1939 کو مشہد میں پیدا ہوئے، جو ایران کا ایک مقدس شہر ہے اور امام رضا کے مزار کی وجہ سے معروف ہے۔ ان کے والد، آیت اللہ جواد خامنہ ای، ایک آذربائیجانی-ایرانی شیعہ عالمِ دین تھے جو سخت مذہبی نظم و ضبط کے قائل تھے۔ ان کا خاندان نہایت سادہ اور قناعت پسند زندگی گزارتا تھا۔

ڈاکٹر خرم الٰہی کی گفتگو سے پتہ چلا کہ آجکل سوشل میڈیا پرعلامہ اقبال کے خلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی مہم چل رہی ہے ۔جب انہوں نے الزامات لگانے والوں کو چیلنج کیا کہ ثبوت سامنے لاؤ تو الزامات لگانے والے غائب ہو گئے ۔ تقریب تقسیم انعامات کے بعد اسلام ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو کی اُساتذہ اور ڈاکٹر خرم الٰہی کے ساتھ علامہ اقبال کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم پر بڑی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔

ویسے 25 کروڑ انسانوں میں سے کتنوں نے چکور بچشم دیکھا ہے؟ اور چکور بھی کیسا سادہ لوح ہے کہ آج تک چاند چھونے کی آس میں اڑتے اڑتے شکاری بندوقوں کا نشانہ بن رہا ہے۔ جیسے عام آدمی مثالی انتظام کی کھوج میں ذلت کی فضا میں مسلسل پھڑپھڑا رہا ہے اور تھک کے گر رہا ہے۔

سیاست بہت ظالم چیز ہوتی ہے۔ طاقت اور اقتدار کے اس کھیل میں بھائی بہن سیاسی حریف بن جاتے ہیں۔ قیدی کی رہائی میں رکاوٹ اس کے گھر سے ڈالی جاتی ہے کیونکہ قیدی کے مسلسل قید رہنے کی صورت میں وراثت بہنوں کے نام ہو گی۔ یہ بات لکھ لیجیے کہ  رہائی اور شہرت کی اس جنگ میں بہن کا ووٹ شہرت کے حق میں لگتا ہے کیونکہ اس شہرت کی وارث مستقبل میں علیمہ خان کو بننا ہے۔

میونخ سمٹ کے دوران مارکو روبیو نے امریکی پالیسی کے کچھ سخت پہلوؤں کو نرم کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم وہاں جانے والے دیگر ڈیموکریٹس نے ایک زیادہ واضح اور متضاد نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔