وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خصوصی خط کونسل کی صدر کے حوالے کر دیا ہے۔
امریکہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
جس طرح شہنشاہ اکبر نے یوسف شاہ چک کے ساتھ دھوکہ کیا تھا اُسی طرح نہرو نے بھی شیخ عبد اللہ کے ساتھ دھوکہ کیا ۔ 1953 ء میں شیخ عبد اللہ کو وزارتِ عظمی سےہٹا کر گرفتار کر لیا گیا ۔ گیارہ سال کی قید کے بعد اُسے 1964 میں رہا کیا گیا جسکے بعد اس نے دہلی کی مکمل غلامی اختیار کر لی ۔
چین کے لیے ترکستان اسلامک پارٹی خاص تشویش کا باعث ہے، جو شامی جنگ کا تجربہ رکھنے والا ایغور عسکری نیٹ ورک ہے اور جسے بیجنگ سنکیانگ کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے، حالانکہ چین کی افغانستان کے ساتھ سرحد محض 76 کلومیٹر ہے۔
کیا کسی کو گبریلا ریکو نام کی لڑکی یاد ہے؟ 21 سالہ اس لڑکی نے سب سے پہلے اس شیطانیت کو بے نقاب کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور بتایا تھا کہ یہ لوگ بچوں سے جنسی جرائم ہی نہیں کرتے یہ بچوں کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔ کہا گیا اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے بعد اسے غائب کر دیا گیا۔
28 جنوری کے روز یاسین کا 18 سالہ بیٹا تابش گنائی اپنے بڑے بھائی دانش گنائی کے ہمراہ شالوں کی گٹھڑی لے کر شملہ کی قریبی ریاست اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادُون اس اُمید کے ساتھ روانہ ہوئے کہ والد کے وہاں پہنچنے پر وہ اچھی کمائی کر چکے ہوں گے۔
ڈیرہ اسماعیل میں شادی کی تقریب کے میزبان ملک نور حسن اس حملے کو ’پشتون روایات‘ کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’شادی کی تقریب جاری تھی، بڑی تعداد میں مہمان پنڈال اور اس کے ساتھ بنے کمرے میں موجود تھے، پنڈال میں نوجوان اتنڑ کر رہے تھے، بارات دلہن لے کر پہنچی ہی تھی کہ اتنے میں زود دار دھماکہ ہوا۔‘
اس پلازے میں ناجائز تعمیرات کی گئیں جو موجودہ صوبائی حکومت کے علم میں بھی تھیں لیکن پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ جب کوئی محکمہ یا کوئی ایماندار افسر قانون پر عمل درآمد کی کوشش کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے اسکی ٹرانسفر کروا دیتاہے۔18 ویں ترمیم صرف سندھ میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ایک ڈھکوسلہ بنی ہوئی ہے۔
صدر پوتن نے ایک بار کہا تھا کہ ’روسی سرحدیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔‘ ان کی وسعت پسند پالیسیوں کے بعض حامیوں کا خیال ہے کہ روس کا اثر و رسوخ تاریخی اعتبار سے اس خطے تک پھیلا ہونا چاہیے جہاں ایک وقت میں روسی سلطنت قائم تھی۔ یا شاید اس سے بھی دور دراز علاقوں تک۔
پاکستانی وزیرِ نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’میں آپ کو واضح طور پر تو کچھ نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ پاکستان میں یو اے ویز (ڈرونز) پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، بہت ساری پرائیوٹ کمپنیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔‘
افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر انکے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ایک قائد اعظم وہ ہے جس کی تصویر سرکاری دفاتر میں آویزاں ہے اور اس تصویر کے سائے میں قائد اعظم کی تعلیمات کو روزانہ روندا جاتا ہے ۔ دوسرا قائد اعظم وہ ہے جو آزادی ، جمہوریت ، آزادی صحافت ، سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کا حامی تھا لیکن وہ قائد اعظم پرانی کتابوں اور فائلوں میں بند ہے ۔