وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خصوصی خط کونسل کی صدر کے حوالے کر دیا ہے۔
امریکہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
یہ تعلق کس کروٹ بیٹھے گا، اس سوال کا جواب تو مستقبل میں پیش آنے والے واقعات طے کریں گے لیکن اس سوال کا جواب ضرور موجود ہے کہ اس تعلق کی ابتدا کیسے اور کیونکر ہوئی تھی۔
بند کمروں میں ہر کوئی چھوٹی چھوٹی خوشامد کر لیتا ہے، پبلک فورم پر نپے تلے انداز میں سپاس نامے پیش کیے جاتے ہیں لیکن فنکار کا اصلی امتحان اُسی وقت ہوتا ہے جب سٹیج بڑا ہو اور سُر سنگیت کو سمجھنے والے سامنے بیھٹے ہوں۔
ایک ممتاز مغربی اخبار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کسی نئی بندرگاہ کی پیشکش کر رہا ہے، اور اس تناظر میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کی تشویش کا بھی حوالہ دیا گیا۔ تاہم، یہ خبر متعدد حوالوں سے غلط فہمی، قیاس آرائی اور غیر مصدقہ بیانیے پر مبنی ہے۔
جنوبی سوڈان سے زیمبیا تک، اسرائیلی حکومت امداد اور ہتھیاروں کی پیشکش کر کے افریقہ میں دل جیتنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکمتِ عملی کام کر بھی سکتی ہے۔
خیال رہے کہ جس روز یہ معاہدہ طے پایا اس کے چند ہی روز قبل اسرائیل نے سعودی عرب کے پڑوسی ملک قطر کے دارالحکومت میں ایک عمارت میں موجود حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا تھا۔
نقی صاحب کے موقف سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن وہ اختلاف رائے کرنے والوں سے نفرت نہیں کرتے۔ ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے انہیں اپنی عدالت میں بلا لیا تھا اور اُنہیں بدتمیز آدمی قرار دیدیا تھا ۔
پاکستان صدر شی جن پنگ کے عالمی ترقی، عالمی سلامتی، عالمی تہذیب اور عالمی حکمرانی کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہی کی دور اندیش قیادت کے تحت پاکستان اور چین کے تعلقات غیر معمولی ترقی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔