الجزیرہ کے مطابق پاکستان کو تنہا کرنے کی مودی کی 10 سالہ مہم ناکام ہو گئی ہے۔ پاکستان بڑی طاقتوں کے ساتھ مضبوط روابط کے باعث اب خطے کا ایک ناگزیر فریق بن چکا ہے۔
روس نے سکیورٹی خدشات کے باعث طالبان کی جدید دفاعی نظام اور اسلحے کی درخواست مسترد کر دی، جبکہ کابل کی یقین دہانیوں کے باوجود عسکری امداد سے انکار برقرار رکھا۔
افغانستان میں طالبان نے اختیارات کی تقسیم کا اصول ختم کر کے تفتیش اور فیصلوں کو ایک ہی دائرہ اختیار میں ضم کر دیا ہے۔ خواتین پراسیکیوٹرز کی برطرفی، جیلوں میں قید خواتین میں 435 فیصد اضافہ اور قانون دانوں کے قتل نے افغان عدلیہ کو مکمل مفلوج کر دیا ہے۔
بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیم بی ایل اے کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلِ خانہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان سے مکمل اور حتمی لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے.
آغا خان یونیورسٹی اور خیبر میڈیکل کالج سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد محققین کو اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی دنیا کے سرفہرست 2 فیصد سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
نسٹ راکٹ ٹیم، لمز کے فیکلٹی ممبر اور جی سی یو کے طلبہ سمیت دیگر سابق طلبہ نے بین الاقوامی اعزازات اور ایوارڈز جیت کر پاکستان کی قابلیت اور معیارِ تعلیم واضح کیا
پاکستانی طلبہ نے عالمی مقابلوں میں انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، قانون اور سائنس کے شعبوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کر کے پاکستان اور تعلیمی اداروں کا نام روشن کیا
تقریب میں پاکستان کے بیانیے کو بھرپور پذیرائی ملی، جس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ پاکستان دو دہائیوں سے دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور بھارت کی پشت پناہی سے کام کرنے والے گروہوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔
قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ آکسفورڈ یونین میں بھارتی طلبہ کی تعداد پاکستانی طلبہ سے کہیں زیادہ ہے، یعنی ووٹنگ کے اعتبار سے بھارتی وفد کو واضح برتری حاصل تھی۔ اس کے باوجود ڈبیٹ میں نہ آنے کا فیصلہ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ بھارتی مقررین اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کی صورتِ حال کو روزمرہ خبروں سے سمجھنا ممکن نہیں۔ ملک ایک ایسے دباؤ کے جال میں جکڑ چکا ہے جس میں سیاسی اخراجیت، امارتِ اسلامیہ کے اندرونی گروہی اختلافات، وسیع ہوتے عسکری محفوظ ٹھکانے، بگڑتی ہوئی معیشت اور بڑھتا ہوا انسانی بحران سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کے اس منصوبے کے تحت 55 ہزار سے زائد طالبات کو بارہویں جماعت تک مفت تعلیم فراہم کی جائے گی جبکہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے یتیم طلبا کی اعلیٰ تعلیم کے تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی