امریکہ اور ایران کے مابین جوہری مذاکرات میں بڑی پیش رفت؛ ایران نے اپنا افزودہ یورینیم پاکستان منتقل کرنے کی تجویز دے دی، اسلام آباد تہران کے جوہری مواد کے لیے ممکنہ 'تھرڈ کنٹری ہوسٹ' بننے کے لیے تیار۔
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں؛ اعلیٰ حکومتی ذرائع نے پیر کو مذاکرات کے انعقاد کی تردید کر دی، شیڈول تاحال غیر واضح۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے؛ کرک سے تعلق رکھنے والے اہم کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر کو بدمزگی کے بعد اپنے ہی ساتھیوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا
بنوں میں انڈس ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دھماکہ؛ ایک اہلکار شہید اور تین زخمی، فورسز کا کانوائے پشاور سے بنوں آ رہا تھا، علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع۔
آبنائے ہرمز میں بھارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کے بعد نئی دہلی اور تہران کے مابین سفارتی کشیدگی؛ بھارت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا، تجارتی جہاز رانی کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ۔
میڈیا کا کردار محض خبر دینا نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا بھی ہے۔ ایسے حساس وقت میں، جب ملک ایک اہم سفارتی کامیابی کے دہانے پر کھڑا ہو، ضروری ہے کہ میڈیا توازن برقرار رکھے۔ سنسنی خیزی یا ریٹنگز کی دوڑ میں ایسی خبروں کو اس انداز میں پیش کرنا جو بین الاقوامی سطح پر ملک کے تاثر کو متاثر کرے، دانشمندی نہیں۔
دراصل بھارت کے ان جابرانہ اقدامت کے پسِ پردہ نریندر مودی کے انتہا پسندی پر مشتمل عزائم کارفرما ہیں اور یاد رہے نریندر مودی کا بنیادی طور پر تعلق بھی ایسی تنظیم سے ہے جسکی بنیاد ہی اسلام اور مسلم دشمنی پر رکھی گئی ہے اور وہ تنظیم آر ایس ایس ہے
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی دہشت گردی کی معاونت اور پشت پناہی کرتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اجاگر کیا، جن میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک شامل ہے، اور جنہیں بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا رپورٹ کیا ہے۔
دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں۔ 19 جولائی 1947 کو کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا تاہم بھارت نے بےجا طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر لیا۔ بھارتی ظلم و جبر کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے کشمیری آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
آزادی کی تحریکیں پابندیوں اور پراپیگنڈا سے ختم نہیں ہوتیں۔ کشمیر کے عوام کی آواز، خواہ کتنی ہی دبائی جائے، کسی نہ کسی شکل میں ابھرتی رہے گی کیونکہ مسئلہ سیکیورٹی کا نہیں، سیاسی اور انسانی حقوق اور خالص نظریے کا ہے
آزاد کشمیر، مقبوضہ جموں و کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری عوام نے 13 جولائی 1931 کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے یومِ شہدائے کشمیر انتہائی عقیدت و احترام اور بھرپور انداز میں منایا