دفتر خارجہ کی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن، علاقائی استحکام، خودمختاری کا احترام اور مظلوم اقوام کی حمایت ہے۔ پاکستان خلیجی دنیا، مسلم ممالک، ہمسایہ ریاستوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن، ذمہ دار اور اصولی سفارت کاری جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
امریکا کے لیے بھی یہ فیصلہ آسان نہیں۔ ایک طرف وہ اپنی عالمی ساکھ اور اتحادیوں کے تحفظ کا دعویدار ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور عراق جیسی طویل جنگوں کے تلخ تجربات اس کے سامنے ہیں۔ امریکی عوام مزید کسی بڑی جنگ کے حق میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ عالمی برادری بھی طاقت کے بجائے سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک بارہا فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اپنانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جن سے ایران میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں روس اور افغانستان کے درمیان رابطوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سیکیورٹی، تجارت اور علاقائی استحکام جیسے موضوعات شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ قدم خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی حرکیات کی نشاندہی کرتا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق شہید ریحان زیب خان نے اپنی زندگی تعلیم کے فروغ، امن کے قیام اور معاشرتی بہتری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے، انتہا پسندی کے خلاف آگاہی پھیلانے اور سماجی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کی۔
وزیرِاعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت موسمیاتی پالیسی تشکیل دے رہی ہے جبکہ بلوچستان کو بیک وقت سیلاب اور خشک سالی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے
آئی ایس پی آر کے مطابق دیگر بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کیلئے سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشتگردی کیخلاف مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔
بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کی مالی اور اسٹریٹیجک سپورٹ کو ہر ممکن طریقے سے ختم کرتے ہوئے صوبے میں پائیدار امن کی بحالی اس پورے عمل کی مرکزی ترجیح ہے۔
اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا زیرِ کاشت رقبہ 7.2 فیصد رہ گیا ہے جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پانی کی کمی برقرار رہی تو غذائی قلت اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خدشہ ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پنیالہ میں پولیس وین پر بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور ڈرائیور سخی جان شہید ہوگئے، جبکہ ایک اہلکار محفوظ رہا
خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے بیانیے میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کے میڈیا سکوت اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ دفاعِ قدس، انصار الجہاد اور تحریکِ لبیک پاکستان فورس جیسے نئے گروہ حملوں کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں۔
بی ایل ایف کی جانب سے نوشکی اور چاغی میں فرنٹیئر کور کے مراکز پر خودکش اور مسلح حملے کیے گئے، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا