خواجہ آصف نے مزید کہا کہ 1979 سے 9/11 تک کے عرصے میں افغانستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی، جس میں پاکستان نے بارہا ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کیا۔ اُن کے مطابق پاکستان نے تین نسلوں تک افغان قیادت اور عوام کی مہمان نوازی کی، مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین پر پناہ دی گئی۔
کیا افغانستان واقعی کبھی فتح نہیں ہوا؟ ایچ ٹی این کی اس خصوصی رپورٹ میں سکندرِ اعظم، چنگیز خان اور بابر سمیت ان تمام فاتحین کا ذکر ہے جنہوں نے اس خطے کو مسخر کیا
اس پورے منظر نامے کا سب سے خوفناک پہلو ہمارا ازلی دشمن انڈیا ہے۔ انڈیا کبھی نہیں چاہے گا کہ دو ایسے ممالک، جن کا کلمہ، مذہب، ثقافت، لباس اور زبان ایک ہو، کبھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ نئی دہلی کے لیے افغانستان صرف ایک پڑوسی نہیں بلکہ پاکستان کی کمر میں چھرا گھونپنے کا ایک "سیکنڈ فرنٹ" ہے۔