اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک افغان شہری کے بھارت میں طبی علاج نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور سفارتی تعلقات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوات میں پشاور سے آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں دو پولیس اہلکاروں کی گرفتاری نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جب محافظ ہی خطرہ بن جائیں تو شہری بھروسا کس پر کریں۔
پاکستان نے اپنے پہلے مقامی فضائی میزائل فاز کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ یہ میزائل پی ایل 15 ای کا متبادل نہیں بلکہ اس کا ساتھی بن سکتا ہے، اور اس کی اصل اہمیت ہتھیار بنانے کی اس مقامی صلاحیت میں ہے جو پاکستان کو خود انحصاری کی طرف لے جا رہی ہے۔
عدلیہ کے لیے یہ "منتخب احترام" کا رویہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی فریق اس دوغلی پالیسی سے باہر آئیں اور تسلیم کریں کہ انصاف نعروں یا مقبولیت کے بجائے صرف قانون کی زبان بولتا ہے۔
اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تنقید کرنے والوں کے پاس اپنا کیا منصوبہ ہے؟ معاشی بحالی کے لیے ان کا عملی روڈ میپ کہاں ہے؟ اور سیاسی تقسیم کو کم کرنے کے لیے انہوں نے کون سا قابلِ عمل فارمولا پیش کیا ہے؟ محض ری سائیکل شدہ جملوں اور ڈرائنگ روم پولیٹکس سے قوم کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔
زکوٰۃ کا پیسہ جو بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کا حق ہے، اس میں خرد برد کے الزامات نے "عوامی حکومت" کے لبادے کو چاک کر دیا ہے۔ صوبے کے عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر محکموں کے اندر جاری مبینہ لوٹ مار پر اینٹی کرپشن جیسے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں
پاکستان نے سی بی ایس نیوز کی جانب سے ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق رپورٹ کو گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ طیارے سفارتی مذاکرات کے لیے لاجسٹک سپورٹ کا حصہ تھے، جبکہ امریکی میڈیا کا بدلتا ہوا کارپوریٹ کنٹرول اور مخصوص اسرائیل نواز لابی اس پراپیگنڈے کے پیچھے اصل محرک معلوم ہوتی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوہاٹ میں دہشت گرد کو روک کر اپنی جان قربان کرنے والے ریٹائرڈ ریلوے ملازم لیاقت کو قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
شہری کی اچانک مداخلت پر خودکش حملہ آور بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں لیاقت موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ حملہ آور خارجی بھی اپنے جہنم واصل ہو گیا۔ شہید لیاقت پاکستان ریلویز سے ریٹائرڈ ملازم تھے اور ان کی اس بروقت بہادری نے دشمن کے بڑے جانی نقصان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں میں بہتری لانے کے بجائے سیاسی توانائیوں کا رخ مرکز کے ساتھ محاذ آرائی کی طرف رہا، جس نے صوبے میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
کتاب کے مختلف ابواب معروف ماہرین، سفارتکاروں اور سابق عسکری حکام نے تحریر کیے ہیں جن میں ڈاکٹر رضوانہ، ڈاکٹر جسپال، لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل، سفیر ضمیر اکرم، ڈاکٹر ظہیر کاظمی، ڈاکٹر اختر، ڈاکٹر نعیم صادق، ڈاکٹر خالد، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز اور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض شامل ہیں۔
انہوں نے معرکے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا: "ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔" وزیراعظم نے واضح کیا کہ بھارت ایک سال گزرنے کے باوجود اپنے الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا اور مہم جوئی کے آغاز کے بعد خود ہی جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔