پاکستانی مؤقف کے مطابق اگرچہ عالمی برادری کو افغانستان کی سیاسی صورتحال پر تحفظات ہو سکتے ہیں، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ افغانستان اب اس نوعیت کا فعال جنگی علاقہ نہیں رہا جو دہائیوں قبل بڑے پیمانے پر ہجرت کا سبب بنا تھا۔ اس بدلتی صورتحال میں افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی ایک معقول، قانونی اور اخلاقی توقع ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے تک حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی اور ہمسایہ ممالک کی جانب سے خوارج کو ملنے والی حمایت افسوسناک ہے
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق گزشتہ مئی کے تنازع میں بھارت نے جنگ بندی کے لیے تیسرے ملک سے مداخلت کی اور پاکستان کے خلاف جارحیت و کشمیری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے
چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ پارٹی 8 فروری کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے ذریعے بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج عوامی حقوق اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے اور پارٹی کارکنان اس میں بھرپور شرکت کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کے آغاز کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے، تاہم اسپیکر قومی اسمبلی کے مطابق تاحال تحریکِ انصاف کی جانب سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا
سابق امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے مطابق امن معاہدے کی ’’گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے‘‘ تاہم ماہرین کے مطابق کامیابی افغان طالبان کی پالیسیاں اور دہشت گرد گروہوں سے تعلقات پر منحصر ہے
پاکستان میں اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ طرزِ عمل ایسے ظاہر کرتا ہے جیسے کسی خود مختار ریاست کے آئینی فیصلوں کی منظوری دینا اس کا اختیار ہو۔ ان کے مطابق پاکستان کے قوانین، عدالتی نظام اور آئینی اصلاحات ایک داخلی معاملہ ہیں جو ملک کے آئینی طریقۂ کار اور پارلیمانی عمل کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں۔