یہ مقدمہ ایف بی آئی، آرمی کاؤنٹر انٹیلیجنس کمانڈ، بیورو آف الکحل، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ ایکسپلوسیو اور ٹلسا پولیس ڈپارٹمنٹ کی مشترکہ تحقیقات کے تحت چل رہا ہے۔
پاکستانی فوج کے مؤقف کے مطابق کسی بھی قسم کی فضائی کارروائی نہیں کی گئی۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں ہمیشہ دہشت گردوں تک محدود رہتی ہیں، اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا ان کی حکمتِ عملی کا حصہ کبھی نہیں رہا۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی۔