Category: جنوبی ایشیا

قلندیہ میں اونروا مرکز خالی کرانے پر پاکستان کی مذمت، عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی تنصیبات کے تحفظ کا مطالبہ۔

قندھار، پکتیکا اور بدخشاں میں طالبان مخالف گروہوں کی تین کارروائیوں کے دعوے، این آر ایف نے فیض آباد حملے میں 3 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی ناکہ بندی کی کوشش ناکام، سکیورٹی فورسز کا سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری۔

پمز ہسپتال کی نرسری میں اے سی کمپریسر پھٹنے سے 15 نومولود جاں بحق، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم۔

ملک بھر میں 12 ربیع الاول پر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے شہری جوش و خروش سے محبتِ رسول ﷺ میں سرشار ہو کر پروقار تقریبات اور جلوسوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔

ملا عبداللطیف منصور کے بیان پر ردِعمل، ماہرین کے مطابق سوویت شکست میں پاکستان کا کردار فیصلہ کن تھا۔

علاوہ ازیں، ایرانی صدر نے ملک میں جاری معاشی بحران کا ذمہ دار امریکا اور اس کے اتحادیوں کو قرار دیا اور کہا کہ طویل عرصے سے جاری پابندیاں اور دشمنی نے ایرانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

روسی صدر نے کریملن میں سفیروں سے خطوط وصول کرتے ہوئے کہا کہ روس افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں

پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکومت کی جانب سے عوام کے لیے اعلان کردہ ریلیف اقدامات عوامی مشکلات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران کے عوام اور قیادت کی دانشمندی پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی افراتفری یا عدم استحکام کو پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جن سے ایران میں بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی ہوتی ہے۔

ایران میں دو ہفتے تک جاری مظاہرے ختم ہو گئے، ملک کے بیشتر حصوں میں امن و امان اور بین الاقوامی کالز بحال جبکہ انٹرنیٹ تاحال بند ہے

ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی، سائبر آپریشن اور نئی معاشی پابندیاں شامل ہیں

ایران کی معاشی مشکلات حالیہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کر چکی ہیں، جن میں بدانتظامی، بے قابو صنعتی پھیلاؤ اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کے باعث پیدا ہونے والا پانی کا بحران نمایاں ہے۔ توانائی سے مالا مال ملک ہونے کے باوجود بجلی کی طے شدہ لوڈشیڈنگ ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی کا معمول بن چکی ہے، جو حکومتی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہی ہے۔

ایران میں احتجاجی مظاہروں میں شدت کے بعد حکومت نے ملک بھر میں میڈیا اور انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی ہے

ایرانشہر میں پولیس چیف محمود حقیقت کے قتل کی ذمہ داری جیش العدل نے قبول کی ہے، جو اب "پیپلز فائٹرز فرنٹ" کہلاتا ہے