چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔
خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
سوڈان اپریل 2023 سے فوج اورآی ایس ایف کے درمیان خونریز خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے، جس میں 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر، اور ملک کے کئی حصے قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ناروے کے سفیر کی عدالت میں غیر معمولی شرکت بین الاقوامی سفارتی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان نے ان سے سختی سے کہا کہ آئندہ ایسے اقدامات نہ اٹھائیں۔
بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے فوری خاتمے اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ افغان عوام کو محفوظ اور باعزت زندگی فراہم کی جا سکے۔
بولٹن میں افغان شہری بکتاش سلطانی پر دو خواتین سے جنسی زیادتی کا مقدمہ چل رہا ہے، جبکہ اس سے قبل دو افغان پناہ گزین 15 سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی کے جرم میں پکڑے گئے تھے
بل میں یہ شق بھی شامل ہے کہ نیٹو کے سپریم ایلائیڈ کمانڈر یورپ کا عہدہ ہمیشہ ایک امریکی افسر کے پاس رہے گا جبکہ یوکرین کی معاونت کے لیے 400 ملین ڈالر کی اضافی رقم بھی منظور کی گئی ہے۔ بل کی حتمی منظوری اسی ہفتے متوقع ہے۔
امریکی حکام نے گرین کارڈز کی ازسرِنو جانچ پڑتال کا آغاز کر دیا ہے جبکہ افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ بھی غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہے
یہ بل جون 2025 میں ایوانِ نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو چکا ہے۔ اس کے تحت امریکی محکمہ خارجہ کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ کسی بھی ایسی بین الاقوامی یا امدادی فنڈنگ کو روک سکے جو بالواسطہ طور پر طالبان حکومت کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
اکبر اور راجہ پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اکبر سابقہ احتساب کمیشن کے سربراہ رہ چکے ہیں جبکہ راجہ مفرور فوجی ہیں اور سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کے اقدامات کو بلا وجہ نشانہ بناتے رہے ہیں۔