لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے سال 2020 میں لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر ایک فرانسیسی نژاد خاتون کے ساتھ ان کے بچوں کے سامنے گن پوائنٹ پر زیادتی کرنے والے دو مرکزی مجرموں، عابد ملہی اور شفقات بگا، کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے نے جہاں مقامی سطح پر انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قائم کیا ہے، وہاں عالمی سطح پر بھی اس کے چوتھائی گونج سنائی دے رہی ہے۔
ایلون مسک کا ردِعمل
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف اور بااثر شخصیت ایلون مسک نے اس سنگین جرم میں ملوث مجرموں کے خلاف پاکستان کے سخت قانونی نظام اور عدالتی فیصلے کی کھل کر تعریف کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کیس کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ پر اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایلون مسک نے پاکستان میں قانون کی اس سخت حکمرانی کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک میں بھی جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی صورتحال کو مثالی بنانے کے لیے اسی طرز پر سخت قوانین کا نفاذ ہونا چاہیے۔
Bravo Pakistan! This is what we should be doing in the West.
— Elon Musk (@elonmusk) June 3, 2026
نئی بحث کا آغاز
سوشل میڈیا پر ایلون مسک کا یہ تبصرہ اس وقت تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور عالمی و مقامی صارفین کی جانب سے اس پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کینیڈا، امریکہ اور یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد صارفین نے ایلون مسک کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک کے نرم قوانین کے باعث وہاں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان جیسے سخت عدالتی فیصلے دیگر ممالک کے لیے ایک نظیر ہیں۔
واضح رہے کہ سال 2020 میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے پر ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا اور مجرموں کو کڑی سزا دینے کا مطالعہ کیا گیا تھا، جس پر اب عدالتِ عالیہ نے حتمی مہر ثبت کر دی ہے۔