افغان طالبان نے نئے قانون کے تحت ملک بھر میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ پولیس کا نام تبدیل کرکے شرطہ رکھ دیا گیا ہے۔

August 23, 2026

پاکستان اور پنجاب بار کونسل نے 8 اراکین کے انفرادی بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

August 23, 2026

ٹرمپ نے ایران جنگ کو معمولی رکاوٹ قرار دیا، ایران نے امریکا کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کر دیا۔

August 23, 2026

امریکی کمیشن نے آر ایس ایس پر پابندیوں کی سفارش کر دی، بھارت نے سفارشات کو توہین آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔

August 22, 2026

کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔

August 22, 2026

دیر کی تحصیل دوبندون میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ برآمد۔

August 22, 2026

طالبان حکومت کا دباؤ؛ گلبدین حکمتیار مبینہ طور پر کابل چھوڑ کر ملائشیا روانہ

واضح رہے کہ گلبدین حکمتیار نے 2016 میں افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ چار سال کے دوران کابل میں سیاسی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان میں سیاسی اختلاف رائے کے لیے گنجائش سکڑتی جا رہی ہے۔
طالبان حکومت کا دباؤ؛ گلبدین حکمتیار مبینہ طور پر کابل چھوڑ کر ملائشیا روانہ

سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو افغانستان میں طاقت کے محدود مراکز اور مختلف جہادی دھڑوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

December 8, 2025

قابلِ اعتماد مقامی ذرائع کے مطابق حزبِ اسلامی کے سربراہ اور سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمتیار نے کابل چھوڑ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ دبئی میں مختصر قیام کے بعد اپنے حتمی سفر کیلئے ملائشیا روانہ ہوگئے ہیں۔

حکمتیار کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکام نے انہیں نہ صرف سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کا سامنا کروایا بلکہ ان پر ایسا دباؤ بھی بڑھتا گیا جس کے باعث انہیں بارہا کابل میں اپنی رہائش تبدیل کرنا پڑی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ اختلافات ایک حد تک بڑھ چکے تھے، خصوصاً اُن کی تقاریر اور بیانات جن میں وہ کابل کی موجودہ انتظامیہ پر تنقید کرتے نظر آتے تھے، طالبان کی جانب سے برداشت نہیں کیے جا رہے تھے۔ سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو افغانستان میں طاقت کے محدود مراکز اور مختلف جہادی دھڑوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گلبدین حکمتیار نے 2016 میں افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ چار سال کے دوران کابل میں سیاسی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان میں سیاسی اختلاف رائے کے لیے گنجائش سکڑتی جا رہی ہے۔

دیکھیں: افغانستان میں جنگی جرائم؛ برطانوی اسپیشل فورسز کے گھناؤنے کردار پر انکشافات

متعلقہ مضامین

افغان طالبان نے نئے قانون کے تحت ملک بھر میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ پولیس کا نام تبدیل کرکے شرطہ رکھ دیا گیا ہے۔

August 23, 2026

پاکستان اور پنجاب بار کونسل نے 8 اراکین کے انفرادی بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

August 23, 2026

ٹرمپ نے ایران جنگ کو معمولی رکاوٹ قرار دیا، ایران نے امریکا کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کر دیا۔

August 23, 2026

امریکی کمیشن نے آر ایس ایس پر پابندیوں کی سفارش کر دی، بھارت نے سفارشات کو توہین آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *