بلوچستان میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے زیرِ اہتمام کام کرنے والے ڈیجیٹل پراکسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے۔ حالیہ تحقیقات کے مطابق ‘میر یار بلوچ’ جیسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو خود کو بلوچستان سے متعلق مبصر ظاہر کرتے ہیں درحقیقت بھارتی ایجنسیوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان ڈیجیٹل پراکسیز کا بنیادی مقصد پاکستان کے قدرتی وسائل پر اس کے خودمختارانہ حقوق پر سوال اٹھانا اور بین الاقوامی سطح پر ریاست مخالف بیانیہ تیار کرنا ہے۔ یہ بیانیہ جنگ دراصل دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی کارروائیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور پاکستان کے آئینی وقار کو مجروح کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طے شدہ منصوبے کے تحت جب بھی زمین پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے فوراً بعد ڈیجیٹل دنیا میں پراپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے تاکہ حقائق کو مسخ کر کے عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکے۔ تاہم،عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف انتہائی مستحکم ہے۔ فروری کے پہلے ہفتے میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکہ، برطانیہ اور چین سمیت عالمی برادری نے بھرپور مذمت کی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ پہلے ہی بی ایل اے کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کو ‘1267 سنکشنز’ کے تحت عالمی سطح پر فہرست بند کرے تاکہ ان کی مالی و نظریاتی پشت پناہی روکی جا سکے۔ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کے وسائل کا انتظام مکمل طور پر ملکی آئین کے تحت ہے، جسے کسی بھی ڈیجیٹل احتجاج یا پراکسی کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان ایک ایٹمی قوت، انسدادِ دہشت گردی کا اہم شراکت دار اور خطے کا جغرافیائی پل ہونے کے ناطے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ ‘فتنہ الہندستاں’ جیسے ہائبرڈ خطرات، جو زمینی اور ڈیجیٹل دونوں محاذوں پر متحرک ہیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کا دفاعی موقف واضح ہے؛ ہم استحکام کے حامی ہیں لیکن ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی بھی کوشش بغیر جواب کے نہیں چھوڑی جائے گی۔
دیکھیے: اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں