بھارتی ویمنز ٹیم نے ایشیا کپ فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کر لیا، تاہم ٹرافی وصول کرنے کی تقریب میں بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین محسن نقوی سے فاتح ٹرافی لینے سے گریز کیا۔
بھارتی ٹیم کے اس اقدام نے ایک بار پھر کرکٹ میں سیاست کے اثرات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اے سی سی نے تقریب کے لیے طے شدہ پروٹوکول پر عمل کیا، تاہم ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ بھارتی ٹیم کی جانب سے سامنے آیا۔
بھارت کا ایک اور متنازع اقدام
ذرائع کے مطابق بھارتی ٹیم کے پاس فائنل جیتنے کے بعد ٹرافی وصول کرنے کا مکمل موقع موجود تھا، لیکن ٹیم نے اے سی سی چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے گریز کیا۔
اے سی سی سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرافی فاتح ٹیم کے لیے بدستور موجود ہے اور ادارے کے پروٹوکول میں کسی تبدیلی کی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔
محسن نقوی نے بھی تقریب کے دوران اپنے طے شدہ مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یوں بھارت کی جانب سے ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ تقریب میں نمایاں ہوگیا۔
کھیل کو سیاست سے جوڑنے کا سلسلہ
بھارتی ٹیم کا یہ اقدام پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے کرکٹ پر اثرات کی ایک اور مثال بن گیا ہے۔
رواں سال دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کے کئی مواقع پر سیاسی اختلافات نمایاں رہے ہیں۔ پہلے ہاتھ نہ ملانے کا معاملہ سامنے آیا اور اب ایشیا کپ کی ٹرافی وصول نہ کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
کرکٹ کے حلقوں کے مطابق کھیل میں مقابلہ میدان تک محدود رہنا چاہیے۔ فاتح ٹیم کی جانب سے ایوارڈ تقریب میں ٹرافی وصول کرنا بین الاقوامی کرکٹ کی بنیادی روایات میں شامل ہے۔
ایسے میں سیاسی اختلافات کو ٹرافی کی تقریب تک لے جانا بھارتی ٹیم کے طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
پاکستان کے مؤقف کو تقویت
واقعے نے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ بھارت کرکٹ کو بھی اپنے سیاسی اختلافات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ہمیشہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کی بات کی جاتی رہی ہے۔ اس کے برعکس بھارتی ٹیم کے حالیہ اقدامات نے دونوں ممالک کے درمیان کھیل کے ماحول کو مزید متاثر کیا ہے۔
پاکستانی کرکٹ حلقوں کے مطابق کھیل کے میدان میں کامیابی کے بعد مخالف ملک کے نمائندے سے ایوارڈ وصول کرنا کھیل کی روایات اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا حصہ ہے۔ اختلافات کے باوجود کھیل کے احترام کو برقرار رکھنا ہی بین الاقوامی مقابلوں کی اصل روح ہے۔
بھارتی فیصلہ سوالیہ نشان
اے سی سی ذرائع کے مطابق ٹرافی بدستور بھارتی ٹیم کے لیے موجود ہے۔ اس لیے ٹرافی وصول نہ کرنے کا معاملہ انتظامی رکاوٹ کے بجائے بھارتی ٹیم کے فیصلے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
بھارتی ویمنز ٹیم نے میدان میں ایشیا کپ جیتا، لیکن ٹرافی وصول کرنے کی تقریب میں اس کے طرزِ عمل نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
واقعے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں سیاسی اختلافات کو کب تک کھیل کی روایات پر فوقیت دی جاتی رہے گی۔