تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں گزشتہ رات اور آج سامنے آنے والی پیشرفت میں مذاکرات میں جزوی پیشرفت، واشنگٹن میں اعلیٰ سطح اجلاس، ایران کی جانب سے نئی وارننگ اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے موصول امریکی تجاویز شامل ہیں، جبکہ صورتحال بدستور نازک قرار دی جا رہی ہے۔
سب سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان اب بھی “کافی فاصلہ” موجود ہے۔ انہوں نے امریکی ناکہ بندی کو “غیر منطقی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہو اور ایران کو نہ ہو، یہ قابل قبول نہیں۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران نے 40 روزہ جنگ میں بھرپور مزاحمت کی اور دشمن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی بحری سرگرمیاں آگے بڑھیں تو ایران جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
اس بیان کے بعد واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت سچویشن روم میں اہم اجلاس ہوا، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹر ہیگستھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اجلاس میں ایران سے مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور جنگ بندی کے مستقبل پر غور کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اجلاس کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی حکام سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا۔
یہ اجلاس ایسے وقت ہوا جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیشرفت نہ ہوئی تو دوبارہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
اسی دوران ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادے نے کہا کہ مذاکرات کی نئی تاریخ اسی وقت دی جا سکتی ہے جب دونوں ممالک مشترکہ فریم ورک پر متفق ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پیشرفت کے باوجود امریکا کے “حد سے زیادہ مطالبات” معاہدے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف اسی معاہدے کو قبول کرے گا جس میں اس کے تمام حقوق بین الاقوامی قوانین کے مطابق تسلیم کیے جائیں۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکا کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن کا ایران جائزہ لے رہا ہے اور تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران نے امریکا پر عدم اعتماد کے باوجود مذاکرات میں شرکت کی اور اپنا مؤقف مضبوطی سے پیش کیا، تاہم امریکی مطالبات زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث پیشرفت محدود رہی۔
کونسل کے مطابق ایران قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور مذاکرات میں عوام کے حقوق کا ہر حال میں دفاع کیا جائے گا۔
بیان میں آبنائے ہرمز سے متعلق بھی اہم نکات سامنے آئے، جن کے مطابق صرف تجارتی جہازوں کو عارضی اور مشروط طور پر گزرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ ہر جہاز کے لیے ایرانی اجازت، رجسٹریشن اور مخصوص راستوں کی پابندی لازمی ہوگی۔ ایران نے واضح کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
آج سامنے آنے والی ایک اور اہم پیشرفت میں ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر جنگ دوبارہ مسلط کی گئی تو یہ عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں میں خود کفیل ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ تقریباً 40 روز تک جاری رہی، جس کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک جنگ بندی پر آمادہ ہوئے اور 11 اپریل کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات بھی ہوئے۔
حالیہ پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ سفارتی عمل جاری ہے اور کچھ پیشرفت بھی ہوئی ہے، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں اور آنے والے دن اس کشیدہ صورتحال کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
دیکھئیے:ایران افزودہ یورینیم پاکستان کے حوالے کرنے پر آمادہ، عرب میڈیا کا دعویٰ