ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سرکاری دورے پر پاکستان میں ہیں۔ اس دورے کا بنیادی مقصد خطے میں امن و امان کی صورتحال اور امریکی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستانی قیادت کے ساتھ مشاورت کرنا ہے۔
پاکستانی ثالثی کا کردار
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ عراقچی اپنے قیام کے دوران پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ یہ ملاقاتیں پاکستان کی جانب سے جاری ان سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کا تسلسل ہیں جن کا مقصد خطے میں مسلط کردہ جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن کی بحالی ہے۔
امریکہ سے ملاقات کی تردید
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان قیاس آرائیوں کی واضح طور پر تردید کی ہے کہ اس دورے کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ملاقات طے ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم ایران اپنے تحفظات اور مشاہدات سے پاکستانی حکام کو آگاہ کرے گا تاکہ انہیں ثالثی کے عمل میں بروئے کار لایا جا سکے۔
علاقائی سلامتی پر توجہ
اس دورے کو خطے کی موجودہ سیاسی اور دفاعی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے پاکستان کی مصالحتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان ملاقاتوں سے علاقائی استحکام اور تنازعات کے حل میں مدد ملے گی۔