لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ لبنان کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا جس میں اسرائیلی افواج کا لبنانی سرزمین سے مکمل انخلاء شامل نہ ہو۔ انہوں نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے بفر زون برقرار رکھنے کی کسی بھی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
بفر زون کی مخالفت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لبنانی وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ایسے کسی بفر زون کو قبول نہیں کر سکتے جہاں بے گھر لبنانی شہریوں کو اپنے ہی دیہاتوں اور شہروں میں واپس جانے کی اجازت نہ ہو۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنے غیر منطقی مطالبات سے دستبردار ہو کر لبنانی زمین سے قبضہ ختم کرے۔
ریاست کی اجارہ داری
حزب اللہ کے حوالے سے ایک اہم بیان میں نواف سلام کا کہنا تھا کہ ایک ریاست کے پاس دو فوجیں نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ہتھیار ضبط کرنے اور حزب اللہ کی فوجی کاروائیوں پر پابندی لگانے جیسے جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں تاکہ ملک میں ہتھیاروں پر صرف ریاست کی اجارہ داری کو یقینی بنایا جا سکے، جو کہ خود لبنان کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
اسرائیلی بمباری اور شہادتیں
دوسری جانب جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا ہے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ شب اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 6 افراد شہید اور 2 زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کے ان مقامات کے خلاف کی گئی جہاں سے راکٹ فائر کیے جا رہے تھے، جبکہ اسرائیل نے اپنی افواج پر ڈرون حملوں کی بھی اطلاع دی ہے۔