بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر اضلاع خضدار اور مستونگ میں الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 8 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان بروقت کارروائیوں کے نتیجے میں بارود سے بھری دو گاڑیاں اور سڑک کنارے نصب دھماکا خیز مواد تباہ کر کے دہشت گردی کے دو بڑے منصوبے ناکام بنا دیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں علاقوں میں فورسز نے ملکی سلامتی اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے۔
خضدار آپریشن
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا آپریشن خضدار میں کالعدم تنظیم فتنہ الہندوستان سے وابستہ عناصر کی موجودگی اور ممکنہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی اطلاع پر کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے بارود سے بھری دو مشتبہ گاڑیوں کا سراغ لگا کر انہیں موقع پر ہی تباہ کر دیا۔
اس کارروائی کے دوران گاڑیوں کو آپریٹ کرنے والے چار مبینہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد موقع پر مارے گئے، جس سے ایک بڑا تباہ کن حملہ ناکام ہو گیا۔
مستونگ آپریشن
دوسری جانب ضلع مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے بروقت انٹیلی جنس رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے سڑک کنارے بارودی مواد نصب کرنے والے مبینہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔ سکیورٹی فورسز کی فوری پیش قدمی کے نتیجے میں مزید چار دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک افراد کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تھا۔ فورسز کی اس بروقت کارروائی سے علاقے میں کئی قیمتی جانوں کا بچاؤ ممکن ہوا۔
سرچ آپریشن
آئی ایس پی آر اور سکیورٹی حکام نے بتایا کہ دونوں علاقوں میں مزید مشتبہ عناصر کی موجودگی کے امکان کے پیشِ نظر سرچ اور کلیئرنس آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملکی حدود سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور بلوچستان میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
دیکھیے: بلوچستان: کان میں دھماکے سے 34 اموات، دیگر مزدوروں کی تلاش جاری