بلوچستان: کوئٹہ کے قریب سورینج کے پہاڑی علاقے میں واقع نجی کوئلہ کان میں میتھین گیس کے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کی تعداد 34 تک پہنچ گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق امدادی ٹیموں نے اب تک 34 مزدوروں کی لاشیں نکال لی ہیں جبکہ 4 ہزار فٹ کی گہرائی میں مزید ممکنہ متاثرین کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
ریسکیو میں مشکلات
چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف کے مطابق کان کے اندر میتھین گیس جمع ہونے سے زور دار دھماکا ہوا، جس کے بعد کان کا بڑا حصہ بیٹھ گیا۔ اس سے ہوا کی فراہمی اور زیرِ زمین راستے بلاک ہو گئے۔
زہریلی گیس اور ملبے کی موجودگی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے مزید مزدوروں کے زندہ بچنے کے امکانات انتہائی معدوم ہو چکے ہیں۔
کے پی میں بے روزگاری
افسوسناک امر یہ ہے کہ جان بحق اور متاثرہ افراد کی اکثریت کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ اور ملحقہ علاقوں سے ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں، مقامی سطح پر روزگار کے وسائل پیدا کرنے میں مسلسل ناکامی اور بدتر ہوتی معاشی صورتحال کے باعث ان غریب شہریوں کو اپنوں سے دور بلوچستان کی ان خطرناک اور موت کے کنویں سمجھی جانے والی کانوں میں مزدوری کے لیے آنا پڑتا ہے۔ کے پی حکومت کی عدم توجہی اور بے حسی کے باعث شانگلہ کا ہر دوسرا گھرانہ آئے دن اپنوں کے جنازے اٹھانے پر مجبور ہے۔
وزیر اعلیٰ کا بیان
بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات شعیب نوشیروانی نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 3 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کی شفاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
مزدور یونین کا احتجاج
لیبر رہنما لالا سلطان اور کان کنوں کی تنظیموں نے واقعے کو مکمل انتظامی غفلت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں دہائیوں پرانے اور غیر محفوظ طریقوں سے کام لیا جاتا ہے۔ حفاظتی قوانین پر عمل نہ ہونے اور جدید آلات کی عدم دستیابی کے باعث آئے دن ایسے حادثات میں غریب مزدوروں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
دیکھیے: جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا متنازع مطالبہ، امیر مقام کا بڑا انکشاف