ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے مذاکرات سے متعلق ایک نیا دعویٰ کیا ہے۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ماضی کے طرزِ عمل پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
نادیہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ تاہم حکومتی رہنما بابر یوسفزئی نے اس مؤقف کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
بابر یوسفزئی کے مطابق ماہ رنگ بلوچ ماضی میں مذاکراتی عمل سے مسلسل گریز کرتی رہی ہیں۔ حکومتِ بلوچستان نے متعدد بار بات چیت کی پیشکش کی مگر انہوں نے انکار کیا۔
ماضی کے ریکارڈ اور بیانیے
رہنما نے واضح کیا کہ محض ایک تازہ بیان یا ٹویٹ سے ماضی کا ریکارڈ نہیں بدلا جا سکتا۔ اگر مذاکرات ترجیح تھے تو سابقہ پیشکشیں کیوں ٹھکرائی گئیں؟
انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف آئین اور قانون کے دائرے میں ممکن ہے۔ ریاست مخالف بیانیے اور تصادم سے مسائل مزید الجھ جاتے ہیں۔
حقائق سامنے لانے کا مطالبہ
بابر یوسفزئی کے مطابق سابقہ سرگرمیوں کو نظرانداز کر کے یکطرفہ دعوے کرنا درست نہیں۔ حقائق کو پرکھنے کے لیے ماضی کے تمام اقدامات کو دیکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل پر پیش رفت کے لیے ہر فریق کا پرانا طرزِ عمل سامنے لایا جائے۔ یکطرفہ بیانات سے زمینی سچائی کو چھپایا نہیں جا سکتا۔
دیکھیے: حوثی باغیوں کا بڑا حملہ: بحیرہ احمر کے دو اہم جزیروں پر کنٹرول حاصل کر لیا