وانا: جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم جماعت الاحرار کے مابین بالادستی اور اثر و رسوخ قائم کرنے کی جنگ میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔ حالیہ پیش رفت میں فرید اللہ عرف عبیداللہ کی قیادت میں عسکریت پسندوں کے ایک دھڑے نے ٹی ٹی پی سے راہیں جدا کرتے ہوئے جماعت الاحرار میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کیا ہے اور عمر خراسانی کی وفاداری کا حلف اٹھا لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ وفاداری ایک ایسے حساس وقت پر سامنے آئی ہے جب خطے میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کے درمیان پوزیشن مضبوط کرنے اور جغرافیائی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اندرونی تناؤ عروج پر پہنچ چکا ہے۔
جنوبی وزیرستان میں شدت پسند گروہوں کی کشمکش تیز: ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار میں اثر و رسوخ کی جنگ
— The Khyber Chronicles (@TKCkhyber) June 12, 2026
جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا میں عسکریت پسندوں کے ایک گروپ کی جانب سے فرید اللہ عرف عبید اللہ کی قیادت میں جماعت الاحرار میں شمولیت اور عمر خراسانی سے وفاداری کا اعلان کیا گیا ہے۔…
جنوبی وزیرستان کو تاریخی طور پر ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کا آبائی علاقہ اور محسود طالبان کا سب سے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے، چنانچہ اس علاقے میں جماعت الاحرار کے حق میں بیعت کو ایک انتہائی اہم اور تزویراتی (اسٹریٹجک) تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
علاقائی تجزیہ کاروں اور رپورٹوں کے مطابق جماعت الاحرار اس وقت جنوبی وزیرستان اور اس سے ملحقہ دیگر جنوبی اضلاع میں اپنی جڑیں پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ محسود بیلٹ میں ٹی ٹی پی کے روایتی اثر و رسوخ کو کمزور کیا جا سکے۔
دوسری جانب اس اندرونی خلفشار کا جواب دینے کے لیے ٹی ٹی پی نے باجوڑ اور دیگر سرحدی قبائلی اضلاع میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ عسکریت پسند گروہوں کے مابین بڑھتی ہوئی اس کشمکش کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔