حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی عوامی تحریک اس وقت تک اخلاقی برتری برقرار نہیں رکھ سکتی جب تک وہ تمام طبقات، خصوصاً مہاجرینِ کشمیر کے آئینی و جمہوری حقوق کا احترام نہ کرے۔
میر واعظ عمر فاروق جیسے حریت رہنما کا یہ سخت اور واضح بیان اس بات کی دلیل ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس وقت کس خطرناک اور منفی سرگرمیوں پر چل رہی ہے۔ عوامی مطالبات کے نام پر قائم کی جانے والی اس کمیٹی کے منفی رویے اور پرتشدد اقدامات نے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یاد رہے کہ اسی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پھیلائی جانے والی پرتشدد کارروائیوں اور گھیراؤ کے دوران سکیورٹی پر مامور رینجرز کے اہلکاروں کو شہید کیا گیا تھا۔ ان افسوسناک واقعات کے بعد عوامی سطح پر اس کمیٹی کے طریقہ کار اور مقاصد پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حریت رہنما نے واضح کیا کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کی 12 آئینی نشستیں اور ان کا حقِ رائے دہی ایک مسلمہ آئینی حق ہے۔ ان نشستوں اور حقوق پر سوال اٹھانا یا انہیں سلب کرنے کی کوشش کرنا کسی طور پر بھی جمہوریت اور کشمیری یکجہتی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
میر واعظ عمر فاروق نے زور دیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹیسمیت تمام متعلقہ فریقین کو مساوات، انصاف اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے تاکید کی کہ کشمیریوں کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا فریم ورک اپنایا جائے جو تمام طبقات کے لیے قابلِ قبول ہو۔
دیکھیے: راولاکوٹ میں عمارتوں پر مورچہ بند شرپسندوں کے تانے بانے کہیں اور سے ملتے ہیں: پولیس