اگر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہے، تو پکوڑے بیچنا اور چائے بنانا بھی تو ایک روزگار ہے، کیا اسے روزگار نہیں مانیں گے؟
یہ وہ شرمناک اور متنازعہ ترین بیان ہے جو بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک نیشنل ٹی وی انٹرویو میں ملک کے ڈگری ہولڈر نوجوانوں کا تمسخر اڑاتے ہوئے دیا تھا۔ یہ بیان بی جے پی حکومت کی اس مجرمانہ بے حسی کا آئینہ دار ہے جس نے بھارت کی جنریشن زی کی تعلیم، روزگار، جمہوری حقوق اور بنیادی تحفظ کو مکمل طور پر داؤ پر لگا دیا ہے۔ بی جے پی کے اس فاشسٹ اور غفلت پر مبنی نظام نے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کے لیے ایک ایسا تسلسل قائم کر دیا ہے جہاں ہر شعبہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
نوجوانوں کی اس معاشی تباہی کے نتیجے میں حال ہی میں بھارت میں سیاسی تاریخ کی ایک غیر معمولی لہر دیکھنے کو ملی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، مسلسل پیپر لیکس ، ریکارڈ بے روزگاری اور عدالت عالیہ کے ایک جج کی جانب سے بیروزگار نوجوانوں کو کاکرچ کہنے پر شدید مشتعل جنریشن زی نے احتجاجاً کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی۔ یہ محض ایک فرضی نعرہ نہیں بلکہ بی جے پی کے خلاف نوجوانوں کا ایک منظم اور خوفناک مزاحمتی استعارہ بن چکا ہے، کیونکہ بی جے پی حکومت نے ملک کی نوجوان نسل کو روزگار دینے کے بجائے واقعی کاکرچوں کی طرح حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔ جو نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں مودی سرکار مضحکہ خیز طور پر پکوڑے بیچنے کا مشورہ دیتی ہے اور احتجاج کرنے پر انہیں دہشت گرد اور کاکرچ قرار دے کر جیلوں میں ڈال دیتی ہے۔
سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ بھارت، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت گردانتا ہے، اسی کے جمہوری ستون اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی قلعی کھل چکی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حالیہ اقدامات نے نام نہاد بھارتی جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اندرونی ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، خود کمیشن کے دیگر الیکشن کمشنرز نے 14 سے زائد مرتبہ خطوط لکھ کر چیف الیکشن کمشنر کے یکطرفہ فیصلوں اور ووٹر لسٹوں سے پراسرار طور پر کروڑوں ناموں کی کٹوتی پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ فارم 6 میں من گھڑت تبدیلیاں کر کے اور ووٹنگ ڈیٹا کو سینٹرلائز کر کے بالخصوص بی جے پی مخالف علاقوں سے کروڑوں جوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے جنریشن زی ووٹرز کے نام لسٹوں سے غائب کر دیے گئے ہیں۔ “ووٹر بندی” اور ووٹ کی چوری کا یہ کھلا کھیل ثابت کرتا ہے کہ جو بھارت دنیا کے سامنے جمہوری الیکشن کا ڈھونگ رچاتا ہے، وہ اندر سے اپنے ہی نوجوانوں سے بنیادی جمہوری حقِ رائے دہی چھین رہا ہے۔
دوسری جانب، نوجوانوں بالخصوص طالبات کے لیے بھارت کے تعلیمی ادارے خوف اور عدم تحفظ کا گڑھ بن چکے ہیں۔ پنجاب کی مشہور لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں سامنے آنے والے مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے اور اس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی شرمناک حرکتوں نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ طالبات نے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کو دبانے کے لیے ان کی ویڈیو پیغامات کو کاٹ چھانٹ کر اور سچائی کو مسخ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کیا تاکہ ریپ کے الزامات کی تردید کی جا سکے، جس کے بعد یونیورسٹی کے اندر طالب علموں کے شدید احتجاج، توڑ پھوڑ اور کیمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
یہ تمام حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نریندر مودی کی بی جے پی سرکار بھارت کی نوین نسل کی سلامتی، روزگار اور جمہوریت کے لیے ایک گہرا خطرہ بن چکی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن میں دھاندلی، دوسری طرف پکوڑے تلنے کے طعنے اور تعلیمی اداروں میں طالبات کی غیر محفوظ زندگی۔۔۔۔ ان سب نے مل کر بھارتی نوجوانوں کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ یا تو کاکرچ جنتا پارٹی جیسے احتجاجی علامتوں کا سہارا لے رہے ہیں یا پھر اس فاشسٹ نظام کے خلاف ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بن رہے ہیں۔
دیکھیے: بھارت: 600 سالہ شاہی مسجد پر بلڈوزر راج کے خطرات، مسلمان ڈٹ گئے